سماجی تنظیمیں ام رباب کے معاملے پر خاموش کیوں؟

سوشل میڈیا صارفین انسانی حقوق کی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

سندھ کے مشہور تہرے قتل کیس کی پیروی کرنے والی ام رباب کو ہراساں کرنے کے واقعے کے بعد اب ان  کی  جان  کو  خطرات  لاحق  ہوگئے  ہیں۔ سوشل  میڈیا صارفین ام  رباب کا ساتھ نہ دینے پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں دادو کی عدالت میں تہرے قتل کیس کی سماعت کے بعد ام رباب چانڈیو اپنے گھر کی جانب جارہی تھیں کہ انڈس ہائے وے پر ان کے قافلے میں موجود گاڑی سے پیپلزپارٹی کے ایم پی اے نواب سردار خان چانڈیو کے گارڈز کی گاڑی ٹکرائی تھی۔ حادثے کے بعد ام رباب نے الزام عائد کیا کہ ان کے دادا، والد اور چچا کے قتل میں ملوث پیپلزپارٹی کے بااثر ایم پی ایز سردار خان چانڈیو اور برہان چانڈیو انہیں ہراساں کررہے ہیں اور انہیں حادثاتی موت مارنے کی سازش کی گئی ہے۔

پولیس کی جانب سے سڑک پر  پیش آنے  والے  واقعے کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دیا  گیا۔  جس  کے  بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ام رباب نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست  کی کہ وہ ان کی آواز بنیں، اس سے پہلے کہ انہیں قتل کردیا جائے۔

یہ  بھی  پڑھیے

ام رباب چانڈیو کا سردار چانڈیو پر ہراسگی کا الزام

ام رباب کی ٹوئٹ پر صارفین ان کے حق میں بولتے نظر آئے اور یوں ٹوئٹر پر "سیو ام رباب” ٹرینڈ بن گیا۔ ام رباب نے ٹرینڈنگ پر صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں ظلم کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ام رباب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر مکمل خاموشی اختیار کرنے پر صارفین انسانی حقوق کی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ نور مقدم قتل کیس میں آگے آگے رہنے والے لوگ سندھ کی ایک نہتی لڑکی کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے۔

صارفین نے الزام لگایا کہ انسانی حقوق کی علمبردار کہلانے والی تنظیمیں محض ان کیسز پر بینر لے کر احتجاج کرنے پہنچ جاتی ہیں جن کیسز کو میڈیا کوریج ملتی ہے، یہ تنظیمیں سوائے اپنی تشہیر کے کوئی کام نہیں کرتیں۔

صارفین کا کہنا ہے کہ ویشا ابوبکر کو بھی ایک جاگیردار سے جان کا خطرہ ہے لیکن کسی سماجی تنظیم نے اس کا بھی ساتھ نہیں دیا۔ اب ام رباب کو بھی بااثر جاگیرداروں سے خطرات  لاحق  ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں۔

واضح رہے کہ 17 جنوری 2018 کو دادو کی تحصیل میہڑ میں چانڈیو برادری کے بااثر افراد نے فائرنگ کرکے ام رباب کے دادا، والد اور چچا کو قتل کردیا تھا۔ ام رباب نے پیپلزپارٹی کے ایم پی ایز سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو پر ان  کے  قتل  کا  الزام عائد کیا ہے۔

Facebook Comments Box