ایک اور پاکستانی نے ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ حاصل کرلیا

اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو رامون مگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو ایشیا کے سب سے بڑے اعزاز رامون مگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے 10 ویں پاکستانی بن گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے انہیں مبارک باد دی ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے 2001ع میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اخوت فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تھی۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد لوگوں کو بلاسود قرض فراہم کرنا ہے تاکہ وہ معاشی طور پر مضبوط ہوسکیں۔

اخوت فاؤنڈیشن لوگوں کو گھر بنانے میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ بچوں کی شادی، تعلیم اور دیگر اخراجات کے لیے بھی بغیر کسی سود کے رقم فراہم کرتی ہے۔ اخوت فاؤنڈیشن وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت لوگوں کو اپنا گھر بنانے میں بھی سہولتیں دے رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر امجد ثاقب کو پاکستان میں غربت کے خاتمے اور مستحق افراد کو مالی طور پر خود مختار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر رامون مگسیسے ایوارڈ دیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر امجد ثاقب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ریاست مدینہ کے ماڈل پر فلاحی ریاست کے قیام کے سفر میں انہیں ڈاکٹر امجد ثاقت کی کامیابی پر فخر ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ریاست مدینہ فلاح و بہبود اور انسانی وقار کا حتمی نمونہ ہے۔ کامیاب پاکستان پروگرام اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک بہترین حکمت عملی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہید ڈاکٹرز کو سول ایوارڈز نہ دینا بدقسمتی ہے، ڈاکٹر قیصر سجاد

اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب سے قبل 9 پاکستانی شخصیات اور ادارے رامون مگسیسے ایوارڈ حاصل کرچکے  ہیں۔  1963 میں اختر حمید خان، 1986میں عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی، 1992 میں شعیب سلطان خان، 1995 میں عاصمہ جہانگیر، 1998 میں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی،  1999 میں تسنیم احمد صدیقی، 2002 میں ڈاکٹر رتھ فاؤ، 2004 میں ابن عبدالرحمان اور 2014 میں دی سٹیزن فاؤنڈیشن کو اس ایوراڈ سے نوازا گیا تھا۔

اس وقت اخوت فاؤنڈیشن کے ملک بھر میں 826 دفاتر ہیں جس میں 7 ہزار سے زائد ملازمین کام کررہے ہیں۔

Facebook Comments Box