کیا ڈان اخبار پاکستان کے خلاف ہے ؟

ڈان اخبار نے مسلم لیگ اور ہندوستان کے مسلمانوں کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے سر انجام دیے

” ڈان ” پاکستان کے انگریزی زبان کے معروف اخبارات میں سے ایک ہے جوسنہ 26 اکتوبر1941ء بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی سرپرستی میں مسلم لیگ کے ترجمان کی حیثیت سے ہفت روزہ کے طور پر جاری کیا گیا،  1942ء میں یہ روزنامہ کے طورپر شائع کیا جانے لگا ، اس اخبار نے مسلم لیگ اور ہندوستان کے مسلمانوں کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے سر انجام دیے تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پالیسیز میں تبدیلی فطری سی بات ہے۔

ڈان اخبار صحافتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کیلئے اپنی شہرت رکھتا تھا، خبر چاہے حکومتی ہو عسکری ہو یاسماجی ہو ڈان اخبار بےلاگ ہی رہا خبر کو قارئین تک پہنچانے میں کسی دباؤ میں نہیں آیا یہی وجہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ڈان اخبار کی ساکھ عشروں سے برقرارہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود ایک بات قابل غور ہے کہ ڈان اکثر تنازعات کی زد میں رہا ہے دسمبر 2019 کو ڈان کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم  شروع ہوئی مظاہرین نے ڈان کے خلاف احتجاج کیا اور اس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا، ممظاہرین نے ڈان میں لندن حملے کے ملزمان کی شناخت کو اپنی ہیڈ لائن میں تذکرہ کیا اور ان کا تعلق پاکستان سے بتایا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ڈان کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ صحافتی اقتدار ایک جانب اورملکی سلامتی ایک جانب ہوتی ہے جو کام صحافتی اقتدار میں آتا ہےاس کو توبلا روک ٹوک انجام دیا جانا چاہئے لیکن جو کام ریاست کا ہے اس کو ریاست کیلئے ہی چھوڑنا چاہئے، انگریزی اخبار ڈان نے گذشتہ روز ایک اور انوکھا کام کیا  جوناتو صحافتی اقتدارتھا اور ناہی ملکی مفاد میں تھا۔

یہ بھی پڑھیئے 

اخبارات نے صحافتی اقدار کی دھجیاں اڑا دیں

ہوا کچھ یوں کہ ڈان اخبار نے تحریک آزادی کے سرخیل، بے باک اور نڈر قائد اہل  مقبوضہ کشمیر سمیت پوری پاکستانی قوم کے دلوں کی دھڑکن  مرحوم سید علی گیلانی کے انتقال کی خبر شائع کی  ، ڈان اخبار کی خبر پاکستانی صحافت اور ڈان اخبار کی صحافت کے درمیان کھیجی گئی لکیر کی واضح نشاندہی کرتی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر  جو گذشتہ دو سالوں سے بھارتی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہے وہاں انٹر نیٹ سمیت تمام ذرائع ابلاغ کی بندش ہے ایسی سنگین صورتحال میں سید علی گیلانی کا اس دنیا سے چلے جانا یقینا ایک بڑا سانحہ ہے اور ایک  ایسا خلاء ہے جس کو کبھی بھی پڑُ نہیں کیا جاسکے گا ۔

  سید گیلانی چلے جانا اتنا بڑا سانحہ اور خبریت کے حوالے سے ایسا اہم واقعہ تھا کہ  پاکستان کے تقریباً سب اہم اخبارات نے اسے سب سے اہم خبر یعنی “سرخی ” کے طورپر  استعمال کیا  ،  یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں انگزیزی اخبارات  اردو اخبارات سے زر مختلف  ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اہم خبر اہم ہی رہتی ہے  یہ کچھ سید علی گیلانی کے انتقال پر بھی ہوا جہاں  دی نیوز ، ٹریبون اور دی نیشن نے اس کو اسی طرح ڈیل کیا  جیسا کے اس خبر کی اہمیت تھی تاہم ڈان اخبار نے یہاں بھی صحافتی اقتدار کو  ویسے ہی نظر انداز کیا جیسے ماضی کے حالیہ واقعات میں دیکھا گیا ہے ۔

 ڈان اخبار نے بے شرمی  کی اس مرتبہ بھی انتہا کرتے ہوئے ٓپہلے صفحے کے بالکل نیچے انتہائی کونے میں سنگل کالم خبر لگائی  ایسے کہ جیسے یہ کوئی غیر اہم خبر ہو، اخبارات کا یہ حصہ عام طورپر نسبتاً غیر اہم خبروں کیلئے متعین ہوتا ہے  ، سید علی گیلانی کے انتقال کی خبر کو بھارتی اخبارات نے بھی  اپنے پہلے صفحے پر جگہ دی بلکہ بھارت کے معروف اخبار   این ڈی ٹی وی نے تو  سید علی گیلانی کو Face Of Kashmiri Separatist Politics کہہ کر مخاطب کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ سید علی گیلانی کا انتقال    کتنی بڑی خبر ہے لیکن افسوس ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی سرپرستی میں قائم ہونے والے  اخبار نے ملکی  پالیسی کو  اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈان پاکستانی اخبار ہے ؟

کیا یہ پاکستانی عوام کے لئے چھپتا ہے؟ کیا اس کی انتظامیہ اور ایڈیٹرز کو علم نہیں کہ گیلانی صاحب کا انتقال کتنی بڑی خبر ہے؟

جس شخصیت کے لئے قومی پرچم سرنگوں کیا گیا، ملک بھر میں سوگ منایا گیا، لاکھوں لوگ رات سے صدمے میں ہیں۔ ہر قومی سیاسی جماعت ، ہر لیڈر نے اس پر افسوس کا اظہار کیا، تفصیلی بیانات دئیے۔ اس خبر کو اتنا ڈائون پلے کیوں کیا گیا؟

 کیا ڈان کی انتظامیہ اور ایڈیٹرز کو ایسے نامناسب اور افسوسناک رویے پر اپنے قارئین کے سامنے جوابدہ نہیں ہونا چاہیے ؟

Facebook Comments Box