افغانستان صورتحال: پاکستان سفارتکاری کا مرکز بن گیا

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یکے بعد دیگرے مغربی ممالک کے رہنماؤں کی پاکستان آمد جاری ہے۔

افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے قبضے کے بعد خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہورہی ہے۔ مغربی ممالک  نے افغانستان میں سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے پاکستان سے مدد مانگ لی ہے۔ یکے بعد دیگرے مغربی ممالک کے رہنماؤں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکا نے 20 سالہ طویل جنگ کے بعد 31 اگست کو افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کرلیا ہے۔ غیرملکی افواج کے نکلنے کے بعد کابل میں طالبان نے حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز کردیں ہیں اور آئندہ دو دنوں میں طالبان کی حکومت کا اعلان متوقع ہے۔

افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے اختتام اور طالبان کے ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آنے کے بعد مغربی ممالک نے سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں۔

افغانستان کی صورتحال پر گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ جرمنی، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے وزرا خارجہ نے پاکستان کا دورہ کرکے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پوپ فرانسس کی افغانستان میں مغربی ممالک کی مداخلت پر تنقید

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جرمن وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کی تفصیلات شیئر کی۔ وزیہ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کینیڈین حکام سے بھی افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

بعدازاں شاہ محمود قریشی نے مزید لکھا کہ ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا دورہ کیا ہے جہاں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

 

 

Facebook Comments Box