1965 میں سیزفائر نہ ہوتا تو کشمیر بھی فتح کرلیتے، میجر (ر) مسرور بیگ

پاک فوج نے عظیم قربانی کی داستان رقم کرتے ہوئے پسرور کو انڈین ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا تھا۔

بھارت جنگ ستمبر میں سازش کے تحت سیزفائر نہ کرواتا تو پاک فوج کشمیر فتح کرلیتی۔جنگ ستمبر میں اللہ ،عوام ،آرمی اور فضائیہ کی وجہ سے فتح نصیب ہوئی۔پاک فوج نے بھارت کا پسرور میں ریلوے لائن تباہ کرکے پنجاب کو تقسیم کرنے کا خواب چکناچور کردیا اور چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ان خیالات کا اظہار جنگ ستمبر کے غازی میجر (ر) مرزا مسرور بیگ نے نیوز 360سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے ننگی جارحیت کی لیکن نالائقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفاع سے غفلت برتتے ہوئے جارحیت پر زور دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتی فوج شام کی چائے لاہور جیم خانہ میں پینے کے خواب دیکھتی رہ گئی اور ہم نے کھیم کرن فتح کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

1965 کی جنگ، پاک فوج کی عظیم قربانیوں اور جراتوں کی داستان

نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مرزا مسرور بیگ کا کہنا تھا کہ میری اُس وقت پوسٹنگ لاہور میں تھی، پوری دنیا کو پتا ہے کہ بھارت نے کس طرح چھپ کر لاہور پر حملہ کیا تھا۔ بھارتی فوج کی جانب سے یہ اعلان کیا جارہا تھا کہ ہم لاہور کے جم خانہ گراؤنڈ میں شام کو جیت کا جشن منائیں گے، لیکن پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی نے انہیں دھول چاٹنے پر مجبور کردیا۔

مسرور بیگ کا کہنا تھا کہ میری یونٹ ہندوستان کی سرحد کھیم کرن پہنچ چکی تھی، ہندوستان کے ارادے مٹی میں ملا دیے ، اس وقت پاکستان کی قوم کا جذبہ دیکھنے لائق تھا۔ ایک جگہ میری جیپ خراب ہوئی تو عوام نے مجھے کہا کہ ہم دھکا دیتے ہیں آپ بس انڈیا کی سرحد میں داخل ہو جائیں۔ وہ پاکستانی عوام کی ایک محبت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ میں اس یونٹ کا حصہ تھا جس کی سربراہی جنرل ٹکا خان کر رہے تھے ، میری ڈیوٹی اس وقت توپ خانے میں تھی ، ہم نے ہندوستان کے ریلوے اسٹیشن کھیم کرن پر حملہ کیا تھا ، ہندوستان کی فوج نے سوچا کہ وہ ہماری پاکستانی سرحد کے اندر داخل ہو جائیں گے لیکن معاملہ الٹ ہو گیا ہم ان کی سرحدوں میں داخل ہوگئے۔

میجر (ر) مسرور بیگ کا کہنا تھا کہ میں 71 کی جنگ کا حصہ بھی تھا لیکن اس وقت ہم ڈھاکا سے لڑ رہے تھے وہاں کی عوام ہمارے ساتھ نہیں تھی پھر بھی ہم نے بھرپور انداز سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ عرصہ کے لیے جنگی قیدی پر بھی رہے تھے۔

مرزا مسرور بیگ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بچے 6 ستمبر کے دن کو جوش و جذبے سے منا کے ملک کی خدمت کریں، ہندوستان کی فوج ڈیفنس کے بجائے حملے کا سوچا اور اس وقت پاکستان کی فوج تیار تھی، دوسری جانب ہندوستان کی فوج عمرکوٹ کی طرف بڑھنے لگی تو وہاں اُن کا اسلحہ ختم ہو چکا تھا فاصلہ بڑھ چکا تھا ہم کو ہتھیار پہنچانے والا کوئی نہیں تھا، عین اس موقع پر ہماری ایئر فورس نے فضائی حملے کرکے ان کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کردیا ۔ اُس وقت پاک فوج اور پاک ایئر فورس نے عوامی محبت کے جذبے کے ساتھ ہندوستان کو شکست دی۔

انہوں نے بتایا کہ عین اس وقت جب پاک فوج کشمیر میں داخل ہورہی تھی ہندوستان شکست تسلیم کرتے ہوئے سازش کے تحت جنگ بندی کی درخواست دے دی۔ اگر ہندوستان نے جنگ بندی کی درخواست نہ دی ہوتی تو ہم کشمیر سے آگے نکل جاتے۔

مسرور بیگ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ریگستان کے علاقے میں پاک فوج نے “حر” مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑی اور وہاں کے لوکل لوگ بھی جنگ میں ہمارے ساتھ لڑ رہے تھے۔ علاقائی لوگوں کو ریگستان کے چپے چپے کا پتا تھا  جس کی وجہ سے ہمیں ہندوستان کی حرکت کا پتا چل رہا تھا۔ اگر ان کی کوئی یونٹ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی تھی تو ہمیں معلوم ہو جاتا تھا۔ سیالکوٹ میں اتنے ٹینک آگئے تھے جتنے دوسری جنگ عظیم میں شاہد ہی ہوں ، پسرور میں ہندوستان کی ٹینکوں پر حملہ  کر کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا تھا اور اس طرح سے پاکستان نے وہ جنگ جیتی تھی۔

Facebook Comments Box