تعلیمی اداروں میں خواتین کے پینٹ اور ٹائٹس پہننے پر پابندی

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں نیا ڈریس کوڈ لاگو کردیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کے پینٹ اور ٹائٹس پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔ مرد اساتذہ کو بھی جینز اور ٹی شرٹ پہننے سے روک دیا گیا ہے۔

وفاقی نظامات تعلیم کی جانب سے دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں نیا ڈریس کوڈ لاگو کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حکام نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں خواتین اساتذہ کو اسکارف اور حجاب پہننے کی تاکید کی گئی ہے۔ خواتین اساتذہ کلاس میں ٹیچنگ گاؤن پہنیں گی جبکہ لیبارٹری میں انہیں لیب کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ پینٹ اور ٹائٹس نہیں پہن سکتیں جبکہ انہیں سینڈل اور اسنیکرز پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین کے تحفظ کے لیے وومن سیفٹی ایپ متعارف

تعلیمی اداروں سے متعلق نئی ہدایات پر جہاں کچھ لوگ حکومت کے اقدام کو سراہا رہے ہیں، وہیں کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ قدم بنیادی حقوق کی نفی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یورپ میں اسکارف پر پابندی کی صورت میں وزیراعظم عمران خان انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنا کر اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں لیکن پاکستان میں زبردستی خواتین کو ایک مخصوص لباس پہننے کی تاکید کی جارہی ہے۔

خواتین کا کہنا ہے کہ ایک مناسب لباس میں اساتذہ اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھاتے ہیں۔ اس قسم کے اقدام سے خواتین اساتذہ کو ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments Box