سیاسی مخالفین بھی بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی مہم جوئی کے معترف

تجزیہ کاروں کے مطابق پی پی پی اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ان دنوں جنوبی پنجاب کے دورے پر ہیں۔ ان کی اس سیاسی مہم جوئی کے معترف ان کے سیاسی مخالفین بھی ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اپنے دورے کے آغاز پر 4 ستمبر کو سب سے پہلے ملتان پہنچے تھے۔ کارکنان کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو کا یہ دورہ جنوبی پنجاب 4 ستمبر سے 9 ستمبر تک مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایون فیلڈ ریفرنس سے دستبردار

اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب سے کئی سیاسی دھڑے پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خواہش رکھتے ہیں تاہم انہیں مناسب وقت میں پارٹی میں باقاعدہ شامل کیا جائے گا۔

آج بلاول بھٹو کا اپنے شیڈول کے مطابق دورہ جنوبی پنجاب کا آخری روز ہے، تاہم ابھی تک کسی بڑی سیاسی شخصیت کی جانب سے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان یا عندیہ نہیں دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ خواجہ آصف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پی پی پی واحد سیاسی جماعت ہے جو سیاسی محاذ پر سب سے زیادہ متحرک ہے۔

خواجہ آصف واحد سیاسی شخصیت نہیں ہیں جو اس بات پر یقین رکھتی ہے۔

اس طرح مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما چوہدری نثار علی خان نے بلاول بھٹو کی سیاسی مہم جوئی کی تعریف کی ہے۔

دونوں رہنما اپوزیشن جماعتوں میں اپنی پوزیشن میں بہتری کے لیے پیپلز پارٹی کی سیاسی پیش رفت سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ مسلم لیگ (ن) کے باہمی اختلافات سے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

بلاول بھٹو اگلے عام انتخابات میں پنجاب میں بہتر پوزیشن کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم ) سے خود کو الگ کرنے کے بعد کارکنان میں جگہ بنائی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو اگلے انتخابات میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو چوٹ پہنچا سکتی ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پی ڈی ایم میں پی پی پی پہلی جماعت تھی جس نے اندرون خانہ تبدیلی کے ذریعے پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانے کا مشورہ دیا تھا۔

Facebook Comments Box