ایف آئی اے نے ابصار عالم کے خلاف کیس ختم کردیا

ابصار عالم پر مارچ میں ریاست مخالف ٹویٹس کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جسے خارج کردیا گیا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے خلاف کیس ختم کردیا ہے، یہ بات سینئر صحافی مظہر عباس نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتائی۔

ابصار عالم پر مارچ میں ریاست کے خلاف ٹویٹس کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جسے خارج کردیا گیا ہے۔

صحافتی حلقوں کی جانب سے اس بات کا شکوہ کیا جاتا ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے آزادی ءِ اظہار رائے کے آئینی حق کے برخلاف صرف اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے میڈیا کی زبان بندی کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صحافیوں کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار اور ان کا تحفظ ہے، محمد وقار بھٹی

ابصار عالم کے خلاف کیس ختم ہونا اس بات کی نفی ہے کہ ریاست صحافیوں کی آواز دبانا چاہتی ہے۔ ایف آئی اے ایک وفاقی ادارہ ہے جس نے اگر ابصار عالم پر کیس بنایا تھا تو اسے ختم بھی کردیا گیا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ کوئی ادارہ ملک میں قانون سے ماورا کام کررہا ہو۔ ریاستی اداروں کو بھی اپنی آئینی حدود کا اتنا ہی علم ہے جتنا کہ میڈیا کو ہونا چاہیے۔

پاکستان میں جیسے ہی کسی اہم شخصیت کا کوئی کارنامہ منظرعام پر آنے والا ہو اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس کی ساکھ کو نقصان پہنچنے والا ہے تو وہ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیتا ہے کہ مجھے اداروں کی طرف سے خطرہ ہے۔

اس طرح کئی شخصیات نے اپنی متنازع آڈیوز، ویڈیوز، سوشل میڈیا پیغامات، فون کالز وغیرہ لیک ہونے سے پہلے ہی شور مچا دیا کہ میرے خلاف تو سازش ہورہی ہے تاکہ جب ان کے کرتوت سامنے آئیں تو یہی سمجھا جائے کہ واقعی کوئی سازش ہورہی ہے۔

صحافیوں سمیت تمام دیگر شخصیات کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر بحال ہے اور اگر کسی کے خلاف غلط بنیادوں پر مقدمہ دائر بھی ہوجائے تو بعد ازاں اسے ختم بھی کردیا جاتا ہے۔

Facebook Comments Box