کیا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی حکومت کی راہ ہموار کرے گی؟

اپوزیشن کوشش کرے، حکومت کو آئینی طریقہ سے رخصت کر کے نئی حکومت تشکیل دی جاسکتی ہے، خواجہ آصف

حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر نئی قومی حکومت کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے، ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ الیکشن سے پہلے اگر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد آجائے تو قومی حکومت بنائی جاسکتی ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری رواں سال دو مرتبہ امریکا کا دورہ کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ضمنی انتخاب میں کالعدم جماعت کے حصہ لینے پر الیکشن کمیشن خاموش

حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے پیپلزپارٹی کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ یہی بنی تھی کہ پی پی اس سیٹ اپ کو جاری رکھنے پر راضی نہ تھی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا موقف تھا کہ موجودہ حکومت کو چلتا کرنا غلط ہوگا، اس کو مدت پوری کرنے دی جائے تاکہ اگلی بار پی ٹی آئی منتخب ہی نہ ہوسکے۔

اب خواجہ آصف کا بیان اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی ضد چھوڑ کر تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہے۔

نیوز 360 کے معتبر ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے امریکا میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ بلاول بھٹو کو امریکی حکام کی طرف سے یہ کہا گیا کہ ان کی پاکستان کے طاقتور اداروں سے بات ہوچکی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے بلاول کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستانی اداروں سے یہ طے پاچکا ہے کہ اگر موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف آئینی طریقے سے پارلیمنٹ کے اندر تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی تو ریاستی ادارے حکومت کا دفاع نہیں کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما کا بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی۔ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر قومی حکومت بنانے کے لیے کام کریں گی۔

ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ عام انتخابات سے قبل ہی ملک میں نئی قومی حکومت تشکیل دے دی جائے گی۔

متعلقہ تحاریر