مریم نواز نے اپنے بیان پر یوٹرن لے لیا

متعدد کورٹ رپورٹرز نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مریم نواز کے بیان کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہا جو میڈیا پر رپورٹ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کے گناہ میں شامل نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا کوروناسے بچاؤکی ویکسین نوازشریف کو واپس لانےمیں کامیاب ہوگی

اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پھر سے آرہا ہے اس پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا ککہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ پارٹی کے سامنے آیا تو اس وقت بات کریں گے۔

صحافی نے سوال کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے موقع پر ووٹ تو دیا تھا؟۔

اس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ "میں اس (ن) لیگ کا حصہ نہیں تھی۔”

 

مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر نے بظاہر آرمی چیف کی توسیع کی ذمہ داری پارٹی صدر شہباز شریف پر ڈال دی ہے۔

 جب عدالت کے رپورٹرز نے ٹوئٹر پر یہ اطلاع دی تو مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر نے اس کا نوٹس لیا اور وضاحتیں دینا شروع کر دی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وضاحت دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ ” میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں اُس "پی ایم ایل این” کا حصہ نہیں تھی۔ میرا جینا مرنا مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔ باقی سب سچ ہے۔”

مریم نواز کی وضاحت اپنی جگہ تاہم معروف صحافی اسد نے مریم نواز کے حوالے سے ان کے بیان کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔ عام طور پر سیاسی تجزیہ کار صحافی اسد طور کو مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کا حصہ کہتے ہیں۔

 

دنیا نیوز کے رپورٹر عامر سعید علی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز کے بیان شیئر کیا ہے۔

اس طرح معروف صحافی اویس یوسفزئی نے صحافی اور مریم نواز کے سوالات اور جوابات کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رکن خواجہ آصف نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے بِل کی حمایت کا فیصلہ نواز شریف نے خود کیا تھا۔”

متعلقہ تحاریر