پاناما لیکس اور پینڈورا پیپرز میں اصل فرق

آئی سی آئی جے کی جانب سے ریلیز کردہ "پینڈورا پیپرز" میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے نے "پاناما لیکس” کے بعد معلوم دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے لی آئی ہے، جسے انہوں نے "پینڈورا پیپرز” کا نام دیا ہے۔ متعدد ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ 700 پاکستانیوں کے نام بھی اس فہرست میں سامنے آگئے۔

پاکستان کی سطح پر "پاناما لیکس” اور "پینڈورا پیپرز” میں فرق کیا ہے۔؟ پاناما لیکس اسکینڈل جب سامنے آیا تھا تو اس وقت ملک پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ پارٹی کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سمیت سارے خاندان کا نام اس اسکینڈل کی زد میں آگیا تھا، تاہم انہوں نے انکار کیا تھا اور اسمبلی فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرا یا میرے خاندان کا اس سارے اسکینڈل سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ، جبکہ اس وقت ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس پارٹی کے سربراہ وزیراعظم عمران خان سمیت ان کے خاندان کے کسی فرد کا نام "پینڈورا پیپرز” اسکینڈل میں نہیں ہے، تاہم ان کے کچھ وفاقی وزراء اور پارٹی کے رہنماؤں کا نام ضرور شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صحافیوں کے مسائل پر کوئی ٹی وی چینل یا اخبار آواز اٹھائے گا؟

جن 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام "پینڈورا پیپرز” اسکینڈل میں سامنے آئے ہیں جن میں بیوروکریٹس، ریٹائرڈ افسران ، صنعت کاروں اور سیاستدانوں کے نام شامل ہیں۔

پاناما لیکس اسکینڈل میں کسی میڈیا مالک کا نام شامل نہیں تھا تاہم "پینڈورا پیپرز” میں کئی میڈیا مالکان کے نام سامنے ہیں، جن میں زیادہ معروف "بول” چینل کے سی ای او شعیب شیخ اور ” سما” چینل کے پی ٹی آئی پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان شامل ہیں۔

"پینڈورا پیپرز” سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے "پینڈورا پیپرز”  خیرمقدم کیا ہے اور قوم کے لیے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ ” پینڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے تمام ناموں کی تحقیقات کی جائیں گی۔ اگر کسی کے خلاف غلطی ثابت ہوئی تو مناسب کارروائی کریں گے۔”

 

انہوں نے لکھا ہے کہ "پینڈورا پیپرز اشرافیہ کی ناجائز دولت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ٹیکس چوری اور بدعنوانی سے جمع دولت مالیاتی پناہ گاہوں میں چھپا دی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے چوری شدہ اثاثوں کا تخمینہ 7 ٹریلین ڈالرز لگایا ہے۔ یہ دولت بڑے پیمانے پر آف شور ٹیکس ہیون میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ عالمی برادری سنگین ناانصافی موسمیاتی تبدیلی کے بحران کی طرح سمجھے۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جب 2018 کی انتخابی مہم چلا رہے تھے تو ان کا فوکس سب سے زیادہ احتساب پر تھا۔ اور بلاتفریق احتساب پر زور دیا کرتے تھے۔ پینڈورا پیپرز کا مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا یہ وزیراعظم کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ کیونکہ وزیراعظم یا ان کی فیملی کا تو سارے اسکینڈل سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے تاہم ان کے کچھ وفاقی وزراء اور پارٹی رہنماؤں کے نام سامنے ضرور آئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا اصل امتحان شروع ہو گیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس امتحان میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں، وہ اپنی  پارٹی کی سینئر قیادت کے خلاف احتساب کا کیا پیمانہ بناتے ہیں۔

Facebook Comments Box