کیا محمد زبیر لیک ویڈیو کی شکایت ایف آئی اے میں درج کرائیں گے؟

سابق گورنر سندھ کا کہنا ہے جنہوں نے غیراخلاقی ویڈیو جاری کی وہ بےشرم ہیں اور ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محمد زبیر نے اپنی مبینہ غیراخلاقی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی میڈیا شخصیت سے گفتگو کی ہے۔ محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ جب یہ ویڈیو آئی تھی تو میں نے بیان دیا تھا یہ فیک اور ڈاکٹرڈ ہے۔

پاکستان کے معروف صحافی اینکر اور یوٹیوبر منصور علی خان کو گزشتہ روز انٹرویو دیتے ہوئے محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جب یہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی تو میں اسی شام ٹوئٹر پر اپنا بیان جاری کیا تھا کہ "یہ فیک اور ڈاکٹرڈ ویڈیو ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

پینڈورا پیپرز نے میڈیا مالکان کو بے نقاب کردیا

دوسری چیز جو میں نے کہی تھی وہ یہ تھی کہ "جنہوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے وہ بےشرم ہیں اور ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔”

تیسری چیز جو میں نے کہی کہ "میں نے اس ملک کے لیے پوری ایمانداری اور سچائی سے کام کیا ہے۔”

چوتھی سب اہم بات جو میں نے کہی تھی وہ یہ تھی کہ "اس ویڈیو کے باوجود میں اپنا کام جاری رکھوں گا ، میں اپنی آواز اٹھاتا رہوں گا اس ملک پاکستان کی بہتری کے لیےکام کرتا رہوں گا۔ "

انہوں نے انٹرویو کے دوران زور دے کر کہا کہ میں کہیں نہیں جارہا ۔ جنہوں نے یہ ویڈیو بنائی تھی وہ سمجھ رہے تھے کہ میں ڈر کے بھاگ جاؤں گا یا چھپ جاؤں گا۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ” منصور میرے الفاظ لکھ لو، میں یہیں رہوں گا اور مزید شدت سے کام کروں گا۔ اور مزید شدت سے میاں نواز شریف کے بیانیے کو آگے بڑھاؤں گا۔”

ایک سوال کےجواب میں محمد زبیر کا کہنا تھا کہ "اس چیز کو سمجھنے کی کوشش کریں، کوئی بیوی ، بچے یہ چیز برداشت نہیں کرسکتے۔ میری بیگم کی جو حالت تھی ، وہ ابھی بھی اسی شاک والی حالت میں ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ "جنہوں نے یہ ویڈیو جاری کی ہے اگر انہوں نے میرے ساتھ مقابلہ کرنا ہے تو میرے ساتھ مقابلہ کریں، مجھے سیاست میں پچھاڑ سکتے ہیں تو پچھاڑ دیں مجھے کوئی دکھ نہیں ہوگا۔ مگر جو انہوں نے کیا ہے وہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔”

منصور علی خان کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ "میری بیگم شدید صدمے میں ہیں۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سابق گورنر محمد زبیر نے اپنے انٹرویو میں "جنہوں” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ وہ جنہوں کون ہیں سامنے آجائیں گے اگر محمد زبیر اپنے کیس کو ایف آئی اے سائبر کرائم سیل میں لے جاتے ہیں۔ اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائےگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اگر کیس ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے پاس چلاجاتا ہے اور یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ویڈیو فیک ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ خود محمد زبیر اور ان کے خاندان کو ہوگا۔ دیر صرف اس چیز کی ہے کہ محمد زبیر اپنے کیس کو کب ایف آئی اے کے پاس لے کر جاتے ہیں۔

Facebook Comments Box