جنید صفدر کی جعلی خبر: پی ایم ڈی اے فوری نافذ العمل ہوناچاہئے

فواد چوہدری شہباز گِل نے دعویٰ کیا کہ پنڈورا پیپرز میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا نام بھی شامل ہے

سیاسی و معاشی فوائد کے لیے جھوٹ اور افوائیں پھیلانا صدیوں کا آزمودہ حربہ ہے اور اس بات کی تصدیق سیاسی معیشت کی سائنس” کا درجہ رکھنے والی  کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ نے بھی کی ہے ’’ارتھ شاستر‘‘کو ریاستی امور چلانے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آج بھی نصاب کا درجہ حاصل ہے۔

گویا سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور افواہیں  کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہاں لیکن یہ جھوٹ اور افواہیں اگرصحافتی اداروں میں آجائیں تو یہ  کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ہوتا ہے۔

ایسا ہی کچھ گذشتہ روزہوا جب  پاکستان ٹیلی ویژن  نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم صفدر کے بیٹے جنید صفدر کے حوالے سے ایک خبر شائع کی اور   بعد میں اس کے جعلی ہونے کے باعث فوری طورپر اس کو ہٹادیا گیا۔

عالمی  مالیاتی بے ضابطگیوں کے حوالے سے جاری کردہ خفیہ دستاویزات پنڈورا پیپرز میں  جہاں پاکستان سے تعلق رکھنے والے سات سو سے زائد افراد کے نام شامل ہیں، وہیں پاکستان ٹیلی ویژن نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم صفدر کے بیٹے جنید صفدر کے حوالے سے خبر نشر کہ جنید صفدر کی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، پی ٹی وی کے خبر نشر کرنے کےبعد نجی ٹی وی اے آر وائی نے بھی  اس خبر کو نشر کیا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے دعوی کیے کہ ان پاکستانیوں میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا نام بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پینڈوراپیپرز: لوٹی گئی دولت پاکستان کا آدھا قرض اتارسکتی ہے

جعلی خبر نشر کرنے پر مریم نواز چینلز انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ  قانونی چارہ جوئی کے سلسلے میں اپنے وکیل کو ہدایت جاری کردی ہیں،اگر چینل انتظامیہ نے معافی نہیں مانگی تو انھیں عدالت میں لے  جاؤں گی ،  جنید صفدر کا کہنا تھاکہ میری کوئی آف شورکمپنی نہیں، میں طالبعلم ہوں اور میرا صرف ایک بینک اکاؤنٹ ہے۔

یہاں یہ با ت اہم ہے کہ  آل پاکستان نیوزپیر سوسائٹی (اے پی این ایس)، پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے مختلف دھڑوں اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز  نے اس پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کئے تھے  اگر آج یہ صحافتی ادارے  اس بل نفاذ کے خلاف نہ ہوتے تو قوی امکان تھا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گِل  پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کے مجوزہ  بل کے تحت قابل گرفت ہوسکتے تھے تاہم اس بل کے خلاف  صحافتی اداروں کے اتحاد نے ان اہم شخصیات کو بچالیا ہے۔

Facebook Comments Box