کیا نیب آصف علی زرداری کو ریلیف دے رہا ہے؟

سابق صدر کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے تاحال پراسیکیوٹر ہی تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کو اے آر وائی گولڈ کیس اور ٹریکٹر ریفرنسز میں بری کردیا گیا تھا، نیب نے اس فیصلے کے خلاف سنہ 2014 میں اپیل دائر کی تھی لیکن اس کی پیروی کرنے کے لیے پراسیکیوٹر نہیں تعینات کیا گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پیر کو نیب اپیل پر سماعت کی۔ نیب کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ اپیلز کے لیے پراسیکیوٹر کا انتخاب باقی رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلاول بھٹو کا دورہ امریکا، کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے

نیب کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ بینچ نے اگلی تاریخ سماعت مقرر کیے بغیر کارروائی ملتوی کردی۔

دلچسپ امر ہے کہ سنہ 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور صفدر اعوان کی ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اپیل دائر ہونے پر نیب نے ہائیکورٹ میں درخواست جمع کروائی تھی کہ اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

اے آر وائی گولڈ ریفرنس کے مطابق اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو، آصف زرداری اور دیگر ملزمان نے اے آر وائی گولڈ کے مالک حاجی عبدالرزاق کو 1995 سے 1997 کے دوران بغیر ٹیکس ادا کیے سونا اور چاندی درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

ٹریکٹر اسکینڈل میں 5900 روسی اور پولینڈ کے ٹریکٹرز کی خریداری میں بےقاعدگیوں میں آصف زرداری اور بےنظیر بھٹو کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما آصف زرداری کے خلاف اتنے اہم کیسز میں نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر کی تعیناتی نہ ہونے اس جانب اشارہ کررہا ہے کہ ممکنہ طور پر مقتدر اداروں کی جانب سے پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری سے نرمی برتی جارہی ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور دیگر لیگی رہنما عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں۔

Facebook Comments Box