بلوچستان میں 5.9 شدت کا زلزلہ، 20 سے زائد افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی

ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے مطابق مختلف شہروں میں زلزلے سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئی ہیں جس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں ، جس کے نتیجے میں متعدد مکانات اور عمارتیں گر گئی ۔ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر 20 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ اس کا مرکز ہرنائی ہے، زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا داخلی راستے بند کرنے سے دہشتگردی رک جائے گی؟

ڈپٹی کمشنر ہرنائی انور ہاشم کے مطابق سبی ، پشین، مسلم باغ ، ہرنائی، کچلاک ، قلعہ سیف اللہ میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ جس کے نتیجے میں متعدد گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر انور ہاشم کے مطابق ہرنائی میں درجنوں گھروں کی دیواریں اور چھتیں گر گئی ہیں جس کے نتیجے میں ابھی تک 15 افراد کے جان بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انور ہاشم کے مطابق 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر اسلام آباد کے مطابق زلزلہ رات 3 بجکر ایک منٹ پر آیا تھا۔

وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے صوبے میں ریڈ الرٹ جاری کردیا جبکہ تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ضیالانگو کا کہنا ہے کہ زلزلے سے زیادہ نقصان ہرنائی اور سبی میں ہوا۔ ہرنائی میں امداد کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹر سروس شروع کردی گئی ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو کے مطابق زلزلے کے جھٹکے زیارت، قلعہ عبداللہ، سنجوانی، ژوب اور چمن میں بھی محسوس کیے گئے۔

ضیااللہ لانگو کا کہنا ہے کہ زلزلے سے 5 سے 6 شہر زیادہ متاثرہ ہوئے جہاں سے تفصیلات اکٹھی کی جارہی ہیں، جبکہ دیگر علاقوں سے حکام کو تفصیلات اکٹھی کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

وزارت داخلہ بلوچستان نے آج اسکول بند رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے مطابق مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نصیر ناصر نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

زلزلے کے وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہو گیا ہے جبکہ اسپتالوں میں زخمی مریضوں کو بغیر بجلی کے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

Facebook Comments Box