وزیراعظم پاناما اور پینڈورا کی تحقیقات کرائیں، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا مطالبہ

تجریہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپریل 2018 ایمنسٹی اسکیم کے تحت پاناما لیکس میں آنے والے تمام افراد کو کلین چٹ دے دی گئی مگر ان سے پیسے کمانے کا سورس نہیں پوچھا گیا۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلٹس(آئی سی آئی جے) کی جانب سے گزشتہ اتوار ریلیز کیے گئے پینڈورا پیپرز کے آفٹرشاکس کا سلسلہ ملک پاکستان میں جاری ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے پینڈورا پیپرز اور 2016 میں شائع ہونے والے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا دیا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں پاناما لیکس اور پینڈورا پیپرز میں آنے والے افراد کے اثاثے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پینڈورا پیپرز میں امریکی سیاستدانوں کے نام کیوں شامل نہیں؟

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے خط میں لکھا ہے کہ پاناما لیکس میں 450 پاکستانیوں کے نام آئے تھے جبکہ پینڈورا پیپرز میں 700 پاکستانیوں کے نام آئے ہیں۔

پاناما لیکس کے منظرعام پر آنے کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں  ایس ای سی پی ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، فیڈر ل بور ڈ آف ریونیو(ایف بی آر) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی( ایف آئی اے) اور آئی بی سمیت نمائندے شامل کیے گئے تھے۔ لیکن کسی ادارے نے کوئی کام نہیں کیا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے خط میں اس بات کا بھی اشارہ کیا ہےکہ انکوائریز کی گئیں مگر اپریل 2018 میں ایمنسٹی اسکیم کااعلان کردیا گیا۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان اس وقت اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے اسمبلی میں بہت شور مچایا تھا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ اب آپ وزیراعظم ہیں اور قدرت نے آپ کو موقع فراہم کیا ہے کہ پینڈورا پیپرز میں آنے والے 700 افراد سمیت پاناما لیکس میں آنے والے 450 پاکستانیوں میں ہاتھ ڈالیں، اور ان کا احتساب بھی کریں۔

خط میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت 700 پاکستانیوں کا کیس ایف آئی آر کو پیش کرے ، جو لوگ اپنے اثاثوں سے متعلق ایف بی آر کو مطمئن نہ کر سکیں ان کے اثاثے ضبط کرلیے جائیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ اپریل 2018 میں ایمنسٹی اسکیم کے تحت 450 افراد کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے آف شور کمپنیز کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ کردیں ، لیکن ان سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ وہ یہ پیسے لائے کہاں سے تھے۔ جبکہ یہ سب سے اہم بات تھی کہ آف شور کمپنی بنانے کے لیے انہوں نے پیسے کمائے کہاں سے تھے کہیں پیسے غلط طریقے سے تو نہیں کمائے تھے۔

Facebook Comments Box