حکومت سے علیحدگی، ایم کیو ایم پاکستان میں پریشر گروپ قائم

رہنما ایم کیو ایم عامر خان کا کہنا ہے ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جس سے عوام سڑکوں پر آجائے۔

حکومت سے علیحدگی کے لئے ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی میں پریشر گروپ قائم ہوگیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کے اہم رکن عامر خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے سینئر رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ حکومت کے فیصلوں میں ایم کیو ایم کو شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ حکومت سے علیحدگی کا آپشن موجود ہے مگر فیصلہ پارٹی کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

جسٹس فار بلوچستان کا غلط ٹوئٹ، مریم نواز نے چپ کا روزہ رکھ لیا

مہنگائی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف اپوزیشن جماعتیں یک زبان

حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جس سے لوگ سڑکوں پر آئیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جو کہ 3 گھنٹوں تک جاری رہا جس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ہے۔

رابطہ کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافے اور وفاقی حکومت کا حصہ ہونے پر ایم کیو ایم پاکستان پر ووٹرز کا بہت پریشر ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں ایم کیو ایم پاکستان اپنا سیاسی لائحہ عمل جلد تیار کرے گی۔

رابطہ کمیٹی ذرائع کا کہنا  ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماوں  سے ملاقاتیں کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں  ایم کیو ایم پاکستان کا مختلف سیاسی آپشنز پر غور بھی کیا گیا۔ اجلاس میں صرف وزارت چھوڑنے کی بھی تجویز بھی زیرغور آئی۔ پی ٹی آئی کہ ساتھ حکومت میں ہونے کہ نقصانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اتحادی بھی وفاقی حکومت سے ناراض ہونے لگے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ مسلم لیگ ق کے کامل آغا نے بھی کہا کہ حکومت اہم قومی معاملات پر ان سے مشاورت نہیں کرتی۔

پی ٹی آئی کے اپنے ایم این اے نور عالم خان بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر بوکھلا گئے۔ انہوں نے کہا کہ خدا عوام پر رحم کرے، ہمیں بھی جواب دینا ہوگا۔

متعلقہ تحاریر