حزب اختلاف کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے اپوزیشن ای وی ایم کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے متعلق ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا ہے۔ 

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس ایوان کی عزت کی خاطر قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے۔ جب اسپیکر زبان دیتا ہے تو اسد قیصر اپنی زبان نہیں دیتا بلکہ اس ایوان کو محافظ اپنی زبان دیتا ہے۔ جس طرح سے حکومت ایوان کو چلا رہی ہے وہ پارلیمان کو مسمار کرنے کے برابر ہے۔ جس طرح اس حکومت نے یکطرفہ طور پر انتخابی اصلاحات کی کوشش کی اس کی تاریخ نہیں ملتی ہے ۔ پہلے حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے انتخابی اصلاحات کی کوشش کی۔ اب یہ لوگ زبردستی انتخابی اصلاحات پاس کروانا چاہتے ہیں۔ اگر ن لیگ اپنے دور میں انتخابی اصلاحات کرنا چاہتی تو کرسکتی تھی کیونکہ ان کے پاس سادہ اکثریت تھی ۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ اسمبلی میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف قرارداد منظور

5 مشکل ترین شرائط ، آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج حکومت اپوزیشن کے اعتراض کے باوجود انتخابی اصلاحات کا بل پاس کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کے 34 نقاط پر اعتراض اٹھایا ہے ۔ اگر ای وی ایم کے حوالے سے بل پاس ہوگیا تو ہم آج سے ہی اگلے الیکشن نہیں مانیں گے۔ ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اگلے انتخابات کرانا چاہتی ہے مگر حالت یہ ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایوان میں پڑی ہے مگر ہم اس ایوان میں اس پر ووٹنگ کرانے سے قاصر ہیں۔ پھر یہ 22 ماہ میں سارے ملک میں ای وی ایم کیسی بھجواپائیں گے۔ آج حکومت انتخابی اصلاحات کرکے آئین پاکستان کو بلڈوز کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ بل آج پاس ہوجاتا ہے تو ہم کورٹ جائیں گے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں اس پارلیمان کی تاریخ میں یہ بہت اہم دن ہے ۔ میں اس معزز ایوان کے اراکین سے یہ گزارش کروں گا کہ جو بل آج ایوان میں پیش کیے جارہے ہیں ان کو حکومت اور ان کے اتحادی بلڈوز کرانا چاہتے ہیں اور اس کو بوجھ سارا کا سارا اسپیکر قومی اسمبلی پر ہوگا۔ کچھ  روز قبل رات کو دس بجے اعلان ہوا کہ صبح 10 بجے پارلیمان کا اجلاس ہوگا اور پھر جب عمران خان نیازی صاحب کے کھانے میں درجنوں پی ٹی آئی کے ممبران غیرحاضر تھے تو اجلاس کو فوری طور پر ملتوی کردیا گیا۔ اور حکومتی وزراء نے کہا کہ ہمیں متحدہ اپوزیشن سے مشورہ کرنا ہے ۔ جناب اسپیکر آپ کی جانب سے مجھے خط لکھا گیا جس کو آپ کو ایک بہترین انداز میں جواب دیا گیا مگر پھر آپ نے رابطہ منقطع کرلیا ۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی کارکردگی کے پیش نظر انہیں عوام سے ووٹ ملنا محال ہے ۔ اس لیے یہ سلیکٹڈ گورنمنٹ مشین کے ذریعے سے دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔ یہ لوگ اب عوام کے پاس ووٹ کے لیے نہیں جاسکتے اس لیے انہوں نے ای وی ایم کو نکالا۔ ای وی ایم کیا ہے "ایول وشیز مشین” ہے۔ آر ٹی ایس سسٹم 2018 میں خراب ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں یہ دھاندلی زدہ حکومت معرض وجود میں آئی ۔ آج حکومت ای وی ایم پر بل پیش کرنے جارہی ہے اگر یہ بل پاس ہو گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ حکومت بدنیتی کے بنیاد پر کالے قوانین پاس کروانا چاہتی ہے۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم ای وی ایم سمیت تمام بلز کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 167 ممالک میں صرف 8 ممالک میں ای وی ایم کا استعمال ہو رہا ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت آج جو بیج بو رہی ہے اس کا پھل کوئی کھائے گا۔

اے این پی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا ہے کہ ایوان متنازع ہو چکا ہے ۔

Facebook Comments Box