حکومت کو سینیٹ میں بھی کامیابی، میڈیا پرسن کے تحفظ کا بل کثرت رائے سے منظور

حزب اختلاف کے سینیٹرز اضافی ایجنڈا پیش کرنے پر احتجاج کرتے رہ گئے تاہم بل کثرت رائے سےمنظور ہوگئے

حکومت کو سینیٹ میں کامیابی مل گئی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے بل سمیت  تین بلز ایوان سے منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی، حزب اختلاف  کے سینیٹرز اضافی ایجنڈا پیش کرنے پر احتجاج کرتے رہ گئے ۔

تفصیلات کے  مطابق چیئرمین سینیٹ   صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ملازمت کے مقامات پر خواتین کو ہراساں کئے جانے کے خلاف تحفظ ترمیمی بل 2021، نظام عدل برائے نو عمر افراد ترمیمی بل، قومی کمیشن برائے حقوق تحفظ ترمیمی بل، اسلام آباد دارالخلافہ تحفظ طفل ترمیمی بل ایوان میں پیش کیے۔ چیئرمین سینٹ نے تمام بلز کو متعلقہ کمیٹیوں کے سپردکردیا۔

سینیٹ کے اجلاس  میں حکومت کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق بل  اضافی ایجنڈے کے طور پر پیش کئے گئے،  حزب اختلاف کے ارکان نے اضافی ایجنڈا پیش کرنے پر شدید احتجاج کیا۔اور چیئرمین صادق سنجرانی ی کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے بازی شروع کردی۔ اپوزیشن کی جانب سے ربراسٹیمپ پارلیمنٹ نا منظور، نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود حکومت نے بل ایوان میں پیش کردیئے۔اپوزیشن کے شورشرابے کے دوران چیئرمین سینیٹ نے بلوں پر رائے شماری کرائی جس میں بلوں کے حق میں 35 اور مخالفت میں 29 ووٹ آئے، اس طرح سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

قومی اسمبلی سے ایک ہی دن میں 10 بل پاس ہونے کا ریکارڈ

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط

ایوان بالا سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کے بل پاس ہونے کے بعد وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ  ورکنگ جرنلسٹ کو بہت مبارک آج صحافیوں کے تحفظ کا قانون  سینٹ نے بھی پاس کر دیا، اس بل سے ورکنگ صحافیوں کو پہلی بار ایسے حقوق حاصل ہوں گے جو صرف انتہائ ترقی یافتہ معاشروں میں صحافیوں کو ملتے ہیں، یہ قانون عمران خان کی حکومت کی صحافتی آزادیوں سے وابستگی کا اظہار ہے۔

حکومت  نے سینیٹ میں نیب ترمیمی بل بھی بطور ضمنی ایجنڈا پیش کیا،جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اتنے اہم بلوں کو پہلے قائمہ کمیٹی میں بھجوا کر غور کرنا چاہیے  جبکہ وفاقی وزیر فروغ نسیم کا موقف تھا کے کمیٹی میں بلز کا بھیجنا ایوان کا استحقاق ہے، یہ بل ہرگز کسی شخص سے متعلق نہیں۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل پیش ایوان میں پیش کیا جو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ چیئرمین سینٹ نے حکومت کے مطالبے پر رائے شماری کرائی، دلاور خان گروپ نے حکومت کو ووٹ دیا۔

حکومتی بل منظور ہونے پراپوزیشن ارکان چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے پہنچ گئے اور ایجنڈا پھاڑ کر پھینک دیا، چیئرمین سینیٹ اپوزیشن ارکان کو بار بار اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی تلقین کرتے رہے اس دوران نماز جمعہ کی اذان بھی ہوئی تاہم ایوان میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔

اس سے قبل سینیٹر مشتاق احمد نے ایوان کی توجہ مبذول کرائی کے ایک شہری  سیف اللہ پراچہ کو گوانتا ناموبے جیل میں قید تھے انہیں بے گناہ قرار دیا گیاہے، انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال تک ایک بے گناہ پاکستانی کے ساتھ ظلم ہوتارہا کیا پاکستانیوں کا خون اتنا سستا ہے؟اس کا جواب کون دے گا؟ سینیٹر مشتاق احمد کے بیان پر  وزیر مملکت علی محمد خان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے زمانے میں یہ سب کچھ ہوا، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے مشرف کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہی اس معاملہ پر سٹینڈ لیا جبکہ نواز شریف نے ایک بار بھی کلبھوشن کا نام نہیں لیا، ان کو کلبھوشن کی یاد ستا رہی ہے۔

گواتاناموبے سے باقی لوگ بھی رہا ہو رہے ہیں۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ سیف اللہ پراچہ جلد لاکستان میں ہوں گے۔ علی محمد خان کے ریمارکس پر اپوزیشن نےشور شرابا کیا جس پر چئیرمین سینیٹ نے علی محمد خان کا مائک بند کر دیا۔بعد میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

Facebook Comments Box