مفرور نواز شریف کا ایک بار پھر ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر حملہ

عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے الزام لگایا کہ اسٹیبلشمنٹ عدالتی اور حکومتی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے گزشتہ سال مفرور قرار دیئے جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ اسٹیبلشمنٹ عدالتی اور حکومتی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور:انسانی حقوق کانفرنس یا فوج مخالف اجتماع

جمشید اقبال چیمہ نے ن لیگ کی دھاندلی کے ثبوت پیش کردیے

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے اختتام پر مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد کے خطاب کو عدلیہ اور ججز کی توہین قرار دیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے لکھا ہے کہ چیف جسٹس اور سینئر ججز کے خطاب کے بعد ایک مفرور کی تقریر پر کانفرنس کا اختتام ججز اور عدلیہ کی توہین کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے ایس سی بی اے کو مشورہ دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ "ایس سی بی اے کو اس معاملے میں غیر جانبدار رہنا چاہئے اور وکلاء کو تعاون بھی کرنا چاہیے!۔”

اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چوہدری نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کی دعوت ٹھکراتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "آج عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مجھے مدعو کیا گیا تھا مجھے بتایا گیا ہے کہ کانفرنس کا اختتام ایک مفرور ملزم کی تقریر سے ہو گا، ظاہر ہے یہ ملک اور آئین کا مذاق آڑانے کے مترادف ہے میں نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔”

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور مفرور عدالتی مجرم نواز شریف کی تقریر شروع ہوتے ہوئے بند ہو گئی تھی۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کانفرنس کے منتظمین نے الزام لگایا کہ نواز شریف کی تقریر شروع ہوتے ہی پنڈال میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی تاکہ ان کی تقریر کو مسخ کیا جاسکے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ تقریب کے دوران براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی تاریں کسی نے کاٹ دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کی تقریر شروع ہوتے ہی موبائل انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اپنا موقف بدلنے میں ماہر ہیں۔ میاں صاحب جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پرواسٹیبلشمنٹ ہوتے ہیں اور جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو جمہوریت کو دشمن قرار دینا شروع کر دیتے ہیں۔

2015 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری نے جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریر کی تھی تو میاں نواز شریف نے فوج کی حمایت کرتے ہوئے آصف علی زرداری کے ساتھ اپنی طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کردی تھی۔

مفرور سابق وزیراعظم نواز شریف ملٹری اسٹیبلشمنٹ
dawn news

چونکہ آج ان کی حکومت بھی نہیں ہے اور الزام یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ ان کی حکومت فوج نے ختم کرائی تھی اور یہ بھی الزام لگایا جارہا ہے کہ الیکشن میں ہروایا بھی فوج نے ہی تھا۔ اس لیے کل انہوں نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کھل کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریر کی۔

Facebook Comments Box