لینڈ مافیا جنگلات سمیت 7 کھرب مالیت کی اراضی پر قابض

کیڈیسٹرل میپنگ کے مطابق قبضہ کی گئی اراضی میں محکمہ ریلوے ، جنگلات ،  سول ایوی ایشن اتھارٹی ، نیشنل ہائی ویز اور ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹیز شامل ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ای وی ایم مشینز پر جس طرح احتجاج کا سامنا پڑا اسی طرح کیڈیسٹرل میپنگ کا آغاز کیا تو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ "سرکاری اراضی کے سروے کے پہلے مرحلے کے نتائج سے اس مزاحمت کی وجوہات سامنے آگئیں کہ سیاسی اشرافیہ لینڈ مافیا کے ساتھ ملکر جنگلات سمیت بڑے سرکاری رقبے پر قابض تھی۔”

یہ بھی پڑھیے

ثاقب نثار کی آڈیو لیک، کیا احمد نورانی کی یہ خبر سچ ثابت ہو پائے گی؟

لاہور:انسانی حقوق کانفرنس یا فوج مخالف اجتماع

سروے آف پاکستان نے کیڈسٹرل میپنگ کا کام مکمل کرلیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں  کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لینڈ ریونیو ریکارڈ اور ریاستی اراضی کے ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کردیا گیا ہے ،اس طرح تین بڑے شہروں کی تقریباً 5ہزار 595 ارب روپے کی غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی سرکاری  اراضی واگزار کرانے کی جانب پیش رفت ہوسکے گی۔

یہ سروے جن سرکاری محکموں کی اراضی کے حوالے سےکیا گیا تھا ان میں محکمہ  ریلوے ،جنگلات،  سول ایوی ایشن اتھارٹی، نیشنل ہائی ویز اور ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹیز شامل ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے دو ماہ قبل اراضی کے ریکارڈ میں ترمیم کو روکنے، تصاویر کے ذریعے تعمیرات کی نگرانی اور زمین کی ملکیت کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے اسلام آباد کا کیڈسٹرل نقشہ جاری کیا تھا۔

سروے آف پاکستان کے مطابق تین شہروں کے ڈیجیٹل لینڈ سروے کی تکمیل کے بعد ملک کے دیگر شہروں کی سرکاری اراضی کا ڈیجیٹل سروے آئندہ 6 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے ایک ٹوئٹ میں انکشاف کیا کہ ملک کےتین بڑے شہروں میں تقریباً 5ہزار 595 ارب روپے کی سرکاری اراضی پر پر غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ کہ صرف جنگلات کی زیر قبضہ زمین کی مالیت ہی تقریباً ایک ہزار 869 ارب روپے بنتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنگلات کی زمینوں پر لینڈ مافیا کے قبضے کے سبب ملک میں جنگلات کے رقبے میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے مصدقہ ڈیجیٹل ریکارڈ کی مدد سے ان لینڈ مافیاز  کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا۔

عمران خان نے کہا کہ  کیڈیسٹرل میپنگ کا آغاز کیا تو حکومت کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن و ڈیولپمنٹ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں ہدایت کی تھی کہ صوبائی حکومتیں سرکاری اراضی سے تجاوزات کے خاتمے کے لیےقانون سازی کا عمل جلد مکمل کریں اور واگزار کرائی گئی اراضی پر جنگلات اگانے کا منصوبہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اشرافیہ نے لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے جنگلات سمیت بڑے سرکاری رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ بھی رواں برس اکتوبر میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سندھ۔ بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے سینئر ممبرز بورڈ آف ریونیو کو ریکارڈ کمپوٹرائزڈ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے اور ہدایت کی تھی کہ آئندہ سماعت پر اس حوالے سےجامع رپورٹ پیش کی جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ سنگین مسئلہ ہے، حکام سنجیدہ اقدامات کریں سرکاری زمینوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

Facebook Comments Box