مریم نواز کیخلاف نیب کیس بنتا ہے، آئین کی تین شقوں کی خلاف ورزی ہوئی

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کی اعترافی پریس کانفرنس کے بعد صحافی برادری سیخ پا، پی ایف یو جے نے عدالت جانے کا اعلان کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے چار نجی چینلز کو سرکاری اشتہارات نہ دینے سے متعلق اپنی وائرل ہونے والی آڈیو کلپ صحیح ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔

ان کی اس اعترافی پریس کانفرنس کے بعد سے پورے میڈیا میں ایک نیا بھونچال آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز نے چینلز کے اشتہار روکنے کا اعتراف کرلیا

ثاقب نثار بتائیں نوازشریف اورمجھے سزا دینے پرکس نے مجبورکیا؟مریم نواز

نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں مریم نواز کسی سرکاری عہدے پر ممتکن نہ تھیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما تھیں، اس کے باوجود ان کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی بندر بانٹ ہونے سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی میڈیا کی آزادی میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

سما ٹی وی کے پروگرام میں میزبان علی حیدر کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ مریم نواز نے آج جو اعتراف کیا ہے وہ اس بات کا اعتراف ہے کہ انہوں نے آئینِ پاکستان کے تین آرٹیکلز کی خلاف ورزی کی ہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ آرٹیکل 16 کے تحت مریم بی بی نے freedom of association، آرٹیکل 18 کے تحت freedom of profession اور آرٹیکل 19 کے تحت freedom of expression کی خلاف ورزی کی ہے۔

اسی پروگرام میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس رانا عظیم نے کہا کہ مریم نواز کا اعتراف سما ٹی وی یا کسی اور چینل کے خلاف نہیں بلکہ تمام صحافتی تنظیموں کے خلاف اعترافِ جرم ہے۔

رانا عظیم کا کہنا تھا کہ مریم صاحبہ یہ بتائیں کہ حکومت کے اشتہار کے لیے وہ کیا پارٹی فنڈز سے پیسہ دے رہی تھیں؟ سرکاری اشتہارات کے لیے جو رقم تمام چینلز میں برابر برابر تقسیم ہونا تھی جب 4 چینلز کو اس میں سے ہٹا دیا گیا تو پھر وہ رقم کہاں گئی؟

رانا عظیم نے اہم سوال اٹھایا کہ کیا وہ پیسے اپنی پسند کے چینلز کو دئیے گئے؟ کیا اپنی پسند کے اینکرپرسنز اور صحافیوں کو پیسے دئیے گئے تاکہ حکومت کے حق میں پروگرام کیے جائیں؟

رانا عظیم نے مزید کہا کہ ہم بہت جلد عدالت جائیں گے اور ملک بھر میں احتجاج بھی شروع کریں گے۔

اسی طرح ڈان نیوز کے پروگرام میں میزبان مہر بخاری سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد وحید نے کہا کہ مریم نواز نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ حکومتی اشتہار دینے کے لیے انہوں نے چار چینلز کو منع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تو مریم نواز کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ قائم کرنے جا رہی ہے لیکن سلسلہ یہیں نہیں رکے گا بلکہ اس اقدام پر نیب کیس بھی بنتا ہے۔

ارشد شریف نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں خود پر تنقید کرنے والے اداروں اور میڈیا ہاؤسز کو سراہتی ہیں لیکن پاکستان میں میڈیا کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی گئی۔

Facebook Comments Box