وفاقی وزرا کے غیرملکی دوروں پر 3 ماہ کے لیے پابندی عائد
وفاقی کابینہ کے اعلامیے کے مطابق بیرون ملک دورے کے لیے وزیراعظم سے منظوری لینا ہوگی جبکہ کورونا کی نئی قسم کے خلاف صف آرا ہونے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایک اور بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، وفاقی کابینہ کے اراکین کے بیرون ملک دوروں پر 3 ماہ کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے، تمام وزارا کو بیرون ملک دورے کے لیے وزیر اعظم سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کورونا کی نئی قسم اومی کرون کے حوالے سے کابینہ کو بریف کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کے یہ قسم افریقہ سے شروع ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر اس کے پھیلاؤ کی شرح بہت تیز ہے۔ کابینہ نے عوام کے تحفظ کے لیے ماسک کے استعمال ، سماجی فاصلہ اور ویکسینیشن کی ترغیب دی۔
یہ بھی پڑھیے
فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کیسے گرائیں گے؟ چیف جسٹس
رانا شمیم کو تین سال پرانا قصہ یاد ، 20 دن پرانا بیان حلفی بھول گئے
اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے ووٹنگ مشینوں کے حصول ، عملے کی ٹریننگ ، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں ، عوامی آگاہی مہم اور مقررہ وقت میں ترسیل کے حوالے سے بریفنگ دی۔
کابینہ نے حلقہ 133 میں ضمنی انتخاب کے دوران ووٹوں کو پیسوں سے خریدنے کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ کابینہ اراکین کا کہناتھا اس طرح کی غیر قانونی اقدامات جمہوریت کے منافی ہیں۔ شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کابینہ نے کورونا وباء کے لیے پیکیج پر آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے متعلقہ محکموں کو وضاحت دینے کی ہدایت کی۔
مشیر خزانہ شوکت ترین نے وفاقی کابینہ کو اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ بتایا گیا کہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.67 فی صد کمی آئی ہے۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کے خطے میں گھی اور چائے کی پتی کی قیمتوں کے علاوہ دیگر تمام گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتیں پاکستان میں کم ہیں۔ ان اشیاء میں آٹا، چنے، دال ماش، دال مونگ، ٹماٹر، پیاز، چکن اور پیٹرول شامل ہیں۔
کابینہ کو بتایا گیا کے آٹا، چینی، دال مونگ اور چنے کی دال کی قیمت سندھ میں دوسرے صوبوں کی بانسبت کافی زیادہ ہیں۔ کابینہ نے سندھ میں اشیاء ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
پیٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کو ذیلی اداروں میں ایم ڈی اور سی ای او کی خالی آسامیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت 04 آسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔ وزارت ہوا بازی کی سفارش پر کابینہ نے M/S SERENE AIR, M/S AIRBLUE, M/S PIACL اور JETS M/S PRINCELY کو قومی ہوا بازی پالیسی 2019ء کے تحت ہوا بازی لائسنس کی تجدید کی منظوری دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت ہوا بازی کی سفارش پر سول ایوی ایشن اتھارٹی رولز کے تحت ہوائی اڈوں کے اطراف میں قائم بلند عمارتوں کی حد مقرر کرنے کی منظوری دی۔ اسلام آباد بلیو ایریا میں عمارتوں کی بلندی کی حد 1000 فٹ مقرر کی گئی ہے۔
اس فیصلہ سے شہروں کی حدود کی بے ہنگم پھیلاو کو روکنے، سبزے کو بچانے اور زرعی اراضی کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
وزارت کامرس کی سفارش پر کابینہ نے پاکستانی سفارتخانہ تہران میں تعینات عملے کو Hardship پالیسی کے تحت وطن واپسی پر ذاتی استعمال کی گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دی۔
وزارت داخلہ کی سفارش پر کابینہ نے بیرون ممالک سے تبلیغی جماعت کے پاکستان آنے والے افراد کیلئے ویزہ کی مدت 120 دنوں سے بڑھا کر 150 دن کرنے کی منظوری دی۔
ویزا کا حصول آن لائن ویزا پورٹل کے ذریعے ہوگا۔ کابینہ نے EOBI))Employees Old-Age Benefits Institution کے چیئرمین کی تعیناتی کیلئے طریقہ کار کی منظوری دی۔
یہ تعیناتی مسابقتی عمل کے تحت مینجمنٹ پوزیشن سکیل پالیسی 2020ء کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
وزارت سمندر پار پاکستانیوں کی سفارش پرکابینہ نے
Overseas Employment Promoter Licenses اجراء کرنے کی منظوری موخر کر دی۔
کابینہ نے ہدایت دی کے ان پروموٹرز کے کام کا جائزہ لینے کے لیے طریقہ کار ایک ہفتے کی مدت میں بنایا جائے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کے پروموٹرز باہر جانے والے افراد سے نا جائز طور پر اضافی رقوم نا وصول کی جا رہی ہوں۔
کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 12نومبر 2021ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔
اجلاس میں پاکستان جیمز و جیولری ڈویلپمنٹ کمپنی کی تنظیمِ نو کرنے کی سفارش کی تھی۔
1: کابینہ نے کمیٹی برائے توانائی کے 18نومبر2021ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔
2: کمیٹی برائے توانائی نے Gas Load Management Plan for Winter 2021-22 اور کیماڑی کراچی میں تیل ڈپو قائم کرنے کی سفارش کی تھی۔
3: Gas Load Management Plan for Winter 2021-22
4: ملک میں نکلنے والی گیس کو گھریلو صارفین کے لیے ہی مختص رکھا جائے گا کیونکہ اس کی قیمت کم ہوتی ہے۔
سی این جی سیکٹر کو 01 دسمبر 2021 تا 15 فروری 2022 بند رکھا جائے گی۔ آئی پی پیز اور کھاد فیکٹریوں کو گیس کی فراہمی جاری رہے گی۔ ایکسپورٹ سیکٹر کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی جاری رہے گی۔
ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو 5 فی صد اضافی گیس فراہم کی جائے گی۔
سردیوں میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتیں کم کر دی گئی ہیں۔ (Rs. 12.96 per kWh) تاکے گیس کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔
۔ CNG، سیمینٹ اور Captive Power سے بچنے والی گیس کو گھریلو صارفین کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ گیس بچت کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی سفارش پر کابینہ نے چیئر مین آئی ٹی این ای اور چیئرمین پریس کونسل آف پاکستان کی تعیناتیوں کیلئے سلیکشن بورڈقائم کرنے کی منظوری دی۔
چیئر مین آئی ٹی این ای کیلئے سلیکشن بورڈ وزیر اطلاعات،سیکرٹری اطلاعات،ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات،گریڈ 21 کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژ ن و وزارت قانون کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا۔
چیئر مین پریس کونسل آف پاکستان کیلئے سلیکشن بورڈ وزیر اطلاعات،سیکرٹری اطلاعات،ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات، گریڈ 21 کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژ ن و وزارت قانون کے نمائندوں پر مشتمل ہو گا۔
کابینہ نے محمد سلیم کو چیرمین نج کاری کمیشن تعینات کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار نے کابینہ کو ملک میں کھاد کے موجودہ اسٹاک اور قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کے پچھلے سال کی نسبت اس سال کھاد کمپنیوں نے سندھ کے ڈیلرز کو 53فی صد زیادہ کھاد جاری کی جس کی وجہ سے پنجاب اور باقی علاقوں میں یوریا کی کمی واقع ہوئی اور قیمت بڑھ گئی تھی۔ تاہم وزیر اعظم کی ہدایت پر اس تفریق کو کم کرنے کے لیے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف اقدامات لیے گئے جس کی وجہ سے اوسطاً فی بوری کی قیمت میں 400روپے کی کمی آئی ہے۔ اس وقت گجرانوالہ میں یوریا کی بوری 1850 روپے میں مل رہی ہے۔
ملکی ضروریات سے 2لاکھ ٹن زیادہ کھاد موجود ہے۔
کابینہ کو آگاہ کیا گیا کے کھاد کی سپلائی کو مانیٹر کرنے کے لیے آن لائن پورٹل بنا لی گئی ہے جس سے وفاقی حکومت، صوبے اور تمام ضلعی انتظامیہ کھاد کی نقل و حرکت اور اسٹاک کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔
پنجاب نے 13 نومبر سے اب تک کھاد کی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات لیئے گئے ہیں۔ ان میں 347 ایف آئی آر، 244 گرفتاریاں، 21111 انسپیکشنز، 480 گودام سیل اور 2.79 کروڑ کے جرمانے لگائے جا چکے۔ اس کے علاوہ ہر ضلع میں کنٹرول روم بنائے گئے ہیں جہاں کھاد کی کمی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے مطعلق شکایات درج کروائی جا سکتی ہیں۔ صوبوں کے مابین سرحدوں پر اسمگلنگ روکنے کے لیے چیک پوسٹیں قائم کر دی گئیں ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف مطعلقہ قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں جس میں اطلاع فراہم کرنے والوں کو ضبط شدہ مال کی نسبت سے انعام دیا جائے گا۔
کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 29نومبر2021ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔
افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی ممالک کے وزراء خارجہ کا خصوصی اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے کی منظوری۔ افغانستان کے لیے 50 ہزار ٹن گندم کی امداد کی منظوری دی گئی۔









