ڈیٹا سروے میں کئی لوگوں کی غیرظاہر شدہ بیویاں سامنے آگئیں، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کا اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سینٹر نصیب اللہ بازئی نے کی۔

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیٹا تجزیے کے دوران کئی لوگوں کی ظاہر نہ کی گئی دو بیویاں سامنے آئی ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کا اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر کیشو بائی، سینیٹر مولوی فیض محمد اور وزارت غربت کے خاتمے اور سوشل سیفٹی ڈویژن کے سینئر افسران سمیت تمام متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ (وفاقی وزیر) ڈاکٹر ثانیہ نشتر بھی موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

سکھر سمیت سندھ بھر میں یوم ثقافت جوش و جذبے سےمنایا جارہا ہے

سری لنکن مینجر کا قتل ، عمران خان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ ڈیٹا تجزیے کے بعد ہم یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ کس کو ریلیف دیں اور کس نہ دیں کیونکہ ڈیٹا میں دونوں بیویوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت اب تک 1 کروڑ 48 لاکھ افراد میں 179 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کیلئے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اب تک 28 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد میں 34 ارب 55 کروڑ تقسیم کئے جاچکے ہیں۔

ایجنڈے میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ شامل تھی۔

کمیٹی کو ان دو چھتریوں (پروگرامز) کے تحت چلائے جانے والے مختلف پروگراموں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ان پروگرامز کا مقصد انسانی ترقی سے متعلق بنیادی مسائل کو حل کرنا ہے۔

فنڈز کی تقسیم کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر این ایف سی فارمولہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اب قومی سماجی و اقتصادی سروے کے اعداد و شمار کے مطابق غربت کے اشاریہ کی بنیاد پر ادائیگیاں کی جائیں گی۔

بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے حصے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے پروگرام کے لیے 35 فیصد مختص کیا ہے اور 65 فیصد ذمہ داری صوبوں کو دا کرنا ہوگی۔

فلٹرز کے بارے میں اور مستحق افراد کے اخراج کے خطرے کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ چونکہ فنڈز محدود تھے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اسکریننگ لازمی تھی کہ زیادہ تر ضرورت مندوں کو چھوڑا نہ جائے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ احساس راشن پروگرام کے لیے فلٹرز میں نرمی کی گئی ہے جس کے لیے فی الحال ویب سائٹ پر رجسٹریشن جاری ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی کا احساس کفالت پروگرام 2008 میں شروع کیا گیا تھا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فی الوقت فی مستحق کو 2000 روپے ماہانہ ادا کیا جا رہا تھا۔ 2022 تک کفالت سے مستفید ہونے والوں کی تعداد کو 8 ملین تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 1104 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ تحاریر