رانا محمد شمیم توہین عدالت کیس ، تمام ملزمان پر آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کی جائے گی

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا بیان حلفی میں ہائی کورٹ ، بینچ اور مجھ پر الزامات لگائے گئے۔ کوشش کی گئی پوری عدلیہ کو متنازع بنایا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا محمد شمیم کے بیان حلفی کے حوالے سے توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے آئندہ کیس کی سماعت 7 جنوری 2022 مقرر کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چیئرمین نیب کے ناموں کی فیڈ بیک کا پروردہ کون؟

میرا پاکستان میرا گھر اسکیم، بینکوں نے 109 ارب کے قرضے منظور کیے

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رانا محمد شمیم توہین عدالت کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ "کیا رانا محمد شمیم صحافی انصاری عباسی اور نوٹری کو ذاتی چیز پبلک کرنے پر نوٹس بھیجے تھے۔ اس پر رانا شمیم کے وکیل عبدالطیف آفریدی کا کہنا تھا بیان حلفی رانا شمیم کی ذاتی دستاویزات تھیں جسے وہ لیک نہیں کرنا چاہتے تھے، اور نہ ہی انہوں نے توہین عدالت کرنے کی کوشش کی۔

دوران سماعت چيف جسٹس اطہر من اللہ انصار عباسي سے استفسار  کیا آپ کو پتہ ہے رانا شميم چيف جج کيسے بنے تھے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کے بغیر ان کی تعیناتی ہوئی تھی۔ اس وقت کے وزیراعظم نے خود کنٹریکٹ پر انھیں  تين سال کیلئے لگا دیا تھا ۔ اس پر اٹارني جنرل نے کہا کہ رانا شمیم مان لیں کہ وہ استعمال ہوئے اور معافی مانگ لیں ۔۔۔ اگر یہ معافی نہیں مانگتے تو جلد فرد جرم کی تاریخ مقرر کریں۔

چيف جسٹس اسلام آباد ہائيکورٹ نے ريمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لطيف آفريدي صاحب آپ کے موکل نے اس عدالت پر انگلی اٹھائي ہے، انہوں نے اس عدالت کے جج کا نام لکھا، کل کلبھوشن یہاں بیان حلفی دے کہ یہ عدالت کمپرومائزڈ ہے تو کیا ہوگا؟ میرے کسی جج پر اثرانداز ہونا تو دور کوئی کیس ڈسکس بھی نہیں کرسکتا۔ اگر اپنے ججز پر اعتبار نہ ہوتا تو یہ کارروئی ہی شروع نہ کرتا۔ ایک بات واضح کردیتے ہیں یہ کارروائی ثاقب نثار سے متعلق نہیں ۔ یہاں معاملہ اس عدالت کا اور ہمارے احتساب کا ہے ۔ ایک ایسے جج سے متعلق بیان حلفی دیا گیا جو بنچ میں ہی نہیں تھے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا بیان حلفی میں ہائی کورٹ ، بینچ اور مجھ پر الزامات لگائے گئے۔ کوشش کی گئی پوری عدلیہ کو متنازع بنایا جائے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ امجد شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کو ہائی کورٹ کے کسی جج پر شک نہیں ہے، اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا تاہم بیان حلفی نے پوری ہائی کورٹ کو مشکوک بنا دیا ہے۔ بیان حلفی کا ثاقب نثار سےکچھ لینا دینا ہے اس لیے جو کرنا ہو گا کریں گے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ لطیف آفریدی دلائل دیں کیوں نہ تمام فریقین پر فرد جرم عائد کردی جائے۔

سماعت کے دوران رانا محمد شمیم کے وکیل نے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ انصار عباسی اور نوٹری کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بیان حلفی سے مستفید ہونے والے کون ہیں؟

وکیل عبدالطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں بیان کو ریکارڈ کروایا گیا اور کس کو فائدہ ہوا؟۔ رانا محمد شمیم کو اندازہ نہیں تھا کہ بیان حلفی سے ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ رانا شمیم کا کہنا ہے کہ بیان حلفی ان کی ذاتی دستاویزات ہیں۔ رانا شمیم نے بیان حلفی اپنی مرحومہ اہلیہ کے لیے ریکارڈ کرایا تھا۔ میرے موکل نے اپنا بیان حلفی نہ پریس کو دیا نہ ہی کسی کو دیا ہے۔ رانا شمیم نے انصار عباسی سے سوال کیا تھا کہ میری نجی دستاویزات آپ کو کیسے ملیں۔

Facebook Comments Box