وزیراعظم کے سامنے صحافیوں کی ساتھی رپورٹر سے بدسلوکی

وزیراعظم کے سامنے صحافیوں کی ساتھی رپورٹر سے بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان سے سوال پوچھنے پر صحافی ساتھی رپورٹر کو گھسیٹ کر لے گئے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کلپ میں بظاہر وزیر اعظم  کو صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتے دیکھا جاسکتا ہے ۔اس دوران نجی نیوز چینل  جی ٹی وی کے رپورٹر کو ساتھی صحافیوں نے اس وقت پیچھے گھسیٹ لیا جب اس نے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے سوال کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت نے عوام پر منی بجٹ مسلط کردیا،اپوزیشن رہنما آرام کرتے رہ گئے

شہباز شریف کی تقریر نوکری کی درخواست ہوتی ہے،عمران خان

اے آر وائی نیوز کے رپورٹر عبدالقادر کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک صحافی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ شیرازی نے وزیراعظم سے سوال پوچھنے کے اصول کی خلاف ورزی کی۔

حیدر شیرازی  نے  اپنا تعارف جی ٹی وی کے رپورٹر کے طور پرکراتے ہوئے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ کیا وہ پارلیمنٹ تحلیل کریں گے یا نئے انتخابات کرائیں گے تاہم ساتھی صحافیوں نے مداخلت کی اور انہیں وزیر اعظم سے سوال کرنے سے روکتے ہوئے پیچھےگھسیٹ لیا۔صحافیوں کی زبانی اور جسمانی لڑائی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم کی سیکیورٹی ٹیم کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔

ایک صحافی نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صحافی فیصلہ کر سکتا ہے کہ ان کی صفوں میں سے کون وزیراعظم سے سوال کرے گا اور  کون نہیں؟ ویسے  غیر رسمی بات چیت کے دوران ڈیکورم کیخلاف کیا ہوا تھا  ؟

دوسری جانب حیدر شیرازی نے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور صحافی سوال اٹھانا ان کا حق ہے۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ کیا موجودہ سیاسی منظر نامے میں اسمبلی کی تحلیل یا نئے انتخابات  میں کس بات کا امکان ہے۔

سینئر صحافی وسیم عباسی نے بھی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ  میں لکھا کہ بیٹ رپورٹرز کی پارلیمنٹ میں ساتھی صحافی کے ساتھ بدتمیزی۔ ویسے یہ کونسی صحافتی اخلاقیات ہے کہ صرف بیٹ رپورٹرز وزیراعظم سے سوال کر سکتے ہیں اور صرف پروموشنل سوال ہو سکتا ہے؟؟ سوال تھا کہ کیا فریش الیکشن ہو سکتے ہیں؟؟

بعدازاں ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے اصل صورتحال سے آگاہ کیا۔

Facebook Comments Box