حکومتی بغض میں سینئر صحافی سلیم صافی کا بچگانہ ٹوئٹ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اومی کرون پھیلے گا تو اس کا شکار صرف اپوزیشن والے تو نہیں ہوں گے۔ اگر حکومت والےماسک استعمال نہیں کرتے تو حکومت والے بھی اس کا شکار ہو جائیں گے۔

پاکستانی صحافت میں ایک معتبر نام سلیم صافی نے حکومت کی مخالفت میں ایک بچگانہ ٹؤئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کررہی ہے کہیں اس کا مقصد مارچ سے قبل لانگ مارچ کو روکنے کی پلاننگ ترتیب دینا تو نہیں، تاہم سوشل میڈیا نے اس بےپیر کے ٹوئٹ پر سینئر صحافی کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔

سینئر صحافی اور جیو نیوز کے پروگرام جرگہ کے اینکر پرسن سلیم صافی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "کورونا کا نیا ویرئینٹ اومی کرون جنگل کی آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ کراچی میں یکدم کیسز کا بڑھ جانا ثبوت ہے لیکن افسوس کہ حکومتی شخصیات بھی ماسک استعمال نہیں کرتے۔”

یہ بھی پڑھیے

کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعظم

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بااثر شخصیات کو نوازنے کی تاریخ

دور کی کوڑی لاتے ہوئے اینکر پرسن سلیم صافی نے لکھا ہے کہ "حکومت روک تھام کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مارچ میں ہونے والے مارچز کو روکنے کے لئے جان بوجھ کر پھیلنے (کورونا کو) دیا جارہا ہے۔”

سید جمال مسعود نامی ٹوئٹ صارف نے سلیم صافی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا ہے کہ "بغض عمران میں آپ اخلاقی پستی کی آخری حد کو چھو رہے ہیں پر آپ کو اس بات کا علم نہیں۔ حیرت ہے آپ جیسا دماغی عارضے میں مبتلا شخص شہر میں کیسے کھلا پھر رہا ہے۔ آپ کو تو پاگل خانے میں ہونا چاہیے تھا پر افسوس عمران خان نے نئے پاگل خانے ہی نہیں بنائے۔ آپ کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔”

ایک اور ٹوئٹر صارف خان افسر نے پرویز رشید اور مریم نواز کی نئی مبینہ آڈیو لیک کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "اچ تو جو ٹویٹ ڈلیٹ کیا اس میں بغض عمران کا اظہار کرنا بھول گئے تھے ویسے انکل پرویز رشید نے ٹھیک کہا بھونکنے والے کتے سکرین شاٹ تو محفوظ ہو گیا تھا جناب دیکھ لو صرف 26 سیکنڈ ٹویٹ رہا اور کاپی ہو گیا۔”

ذیشان طارق نامی ٹوئٹر صارف نے سلیم صافی کے ٹوئٹ کو احمقانہ گفتگو سے تشبیہہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "واہ کیا احمقانہ بات کی ہے۔ بجائے یہ پوچھیں کہ دسمبر کے اندر مہنگائی کے خلاف احتجاج اپوزیشن 23 مارچ کو کیوں کر رہی ہے آپ یہ سازشی نظریات پھیلا رہے ہیں کہ حکومت خود کورونا پھیلا رہی ہے۔ امریکہ میں اس وقت 5 لاکھ سے زائد کیسز روزانہ رپورٹ ہو رہے ہیں وہاں بھی حکومتی سازش ہے؟”

 

زاہد نامی ٹوئٹر صارف نےلکھا ہےکہ "سندھ حکومت کو کراچی کی اتنی فکر نہیں جتنی صافی کو ھے۔پتا نہیں صافی کس کا منہ چڑانے کی کوشش کررہا ھے۔اپنی،سندھ حکومت کی یا وفاقی حکومت کا۔”

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ کون سے ایسی حکومت ہو گی جو اومی کرون اس لیے پھیلنے دے گی کہ مارچ سے پہلے ہی لانگ مارچ کو روکا جاسکے ۔ کیونکہ اومی کرون پھیلے گا تو اس کا شکار صرف اپوزیشن والے تو نہیں ہوں گے۔ اگر حکومت والےماسک استعمال نہیں کرے تو حکومت والے بھی اس کا شکار ہو جائیں گے۔ کیونکہ اومی کرون کسی سے پوچھ کر تو آتا نہیں ہے کہ اپوزیشن والوں کو تو لگ جائے اور حکمرانوں کو نہیں لگے گا۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ اگر سلیم صافی صاحب کے بیان کو اس اینگل سے دیکھا جائے تو ماسک تو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی نہیں لگا ان کے وزراء بھی ماسک سے پرہیز کرتے دکھائی دیتے ہیں یہاں تک کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی ماسک پہن کر کہیں نہیں جاتے گذشتہ دنوں کی ان کی تقاریر دیکھ لیں یا پریس کانفرنسز دیکھ لیں انہوں نے کہیں بھی ماسک کا استعمال نہیں کیا ہے۔ تو کیا یہ لوگ بھی اومی کرون کے پھیلاؤ میں مددگار بن رہےہیں۔ اور اگر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی پہلی لہر سے لےکر آج تککسی لہر کے دوران ماسک نہیں پہنا ہے، تو کیا کریں مولانا فضل الرحمان کو زبردستی ماسک لگا دیا جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی مخالفت میں ایک سینئر صحافی کا بچگانہ ٹوئٹ کسی طور پر زیب نہیں دیتا ہے۔ اومی کرون کے پھیلنے کا اس کو اپوزیشن کے مارچ سے جوڑنے کا

Facebook Comments Box