کامران شاہد اور سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی ٹوئٹر پر آمنے سامنے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے صحافت میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا فن فروغ پانا چاہیے ناکہ سوشل میڈیا پر صحافت کا جنازہ نکالا جائے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور سینیٹر پرویز رشید کی مبینہ آدیو لیک 3 جنوری کو منظرعام پر آئی تھی جس میں مریم نواز کو میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے، تاہم اس مبینہ آڈیو کے دو دن بعد معروف اینکر پرسن کامران شاہد نے دنیا نیوز کے مالک کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے میاں عامر نے کبھی بھی کسی کو اسپیس دینے کے حوالے سے ہدایت نہیں کی ہے، جس پر سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کامران شاہد پر طنز کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن کامران شاہد نے لکھا ہے کہ "دنیا نیوز سب سے معتبر نیوز چینلز میں سے ایک ہے ، جس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے 15 سال صحافتی زندگی کے گزارے ہیں … میاں عامر صاحب نے مجھے کبھی بھی آج تک کسی حکومت کو معمولی سا مارجن دینے کو نہیں کہا .. اظہار رائے کی آزادی جو تجربہ مجھے یہاں ملا وہ غیرمعمولی ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

مری میں پھنسے سیاحوں پر قیامت ٹوٹ پڑی،19افراد جاں بحق

حکومتی بغض میں سینئر صحافی سلیم صافی کا بچگانہ ٹوئٹ

کامران شاہد کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے پاکستانی صحافتی تاریخ کے سینئر ترین صحافی مجیب الرحمان شامی نے لکھا ہے کہ ” جناب مزاج کیسے ہیں ؟ سنا ہے لندن آپ کی راہ میں بچھا جارہا ہے۔”

مجیب الرحمان شامی کو ترکی با ترکی جواب دیتے ہوئے کامران شاہد نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "میرے قریب ترین اور عزیر ترین شامی صاحب!! لندن آپ کی موجودگی کے بغیر لاتعلق سے لگتا ہے ۔۔۔ مجھے تو لاہور بھی یاد آرہا ہے۔۔۔”

 

کامران شاہد کو جواب دیتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ "جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صحافی کسی بھی معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں مگر یہ کیا کہ پاکستان کے دو سینئر ترین جرنلسٹ مجیب الرحمان شامی اور کامران شاہد ٹوئٹر پر ایک دوسرے کے بخئے ادھیڑ رہے ہیں، ایک شخص نےجب یہ کہہ دیا کہ مجھے کبھی ادارے کی ہائی اتھارٹی کی جانب سے کسی کو معمولی سا مارجن دینے کی ہدایت نہیں ملی تو دوسرے کو تسلیم کر لینا چاہیے، صحافت میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا فن فروغ پانا چاہیے ناکہ سوشل میڈیا پر صحافت کا جنازہ نکالا جائے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ مجیب الرحمان شامی صاحب صحافت میں ایک معتبر حیثیت رکھتے ہیں اور کامران شاہد صاحب کو صحافت سے جڑے ہوئے ایک عرصہ بیت گیا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کہ دونوں حضرات کا تعلق ایک ہی ادارے سے ہے یعنی دنیا نیوز۔ اگر دونوں شخصیات ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گی تو ادارے کی بدنامی ہو گی کسی کا کچھ نہیں جائے گا۔ اور یہ بات مزید عیاں ہو گی کہ سیاسی جماعتیں واقعی میڈیا مینجمنٹ کرتی ہیں۔

متعلقہ تحاریر