مری سانحہ، این ڈی ایم اے حکام اسلام آباد ہائی کورٹ میں طلب

شہری حماد عباسی کے وکیل دانش اشراق عباسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور پولیس حکام نے اطلاع کے باوجود کوئی ایکشن نہ لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سانحہ مری، تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لئے درخواست سماعت پر سماعت کی۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو طلب کرلیا۔

مری کے رہائشی حماد عباسی اپنے وکیل دانش اشراق عباسی کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

کارروائی کے دوران دلائل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ دانش اشراق عباسی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مری کے تمام ذمہ داروں کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

شراب کی بوتلوں کو شہد قرار دینے والے ڈاکٹر پر سندھ حکومت مہربان

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، کیا پی ڈی ایم  کا نیا شوشہ ہے؟

دانش اشراق عباسی کا کہنا تھا سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا تھا ، مگر وقت پر کوئی امدادی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے وجہ سے اتنا بڑا سانحہ رونما ہوگیا۔

شہری حماد عباسی کے وکیل دانش اشراق عباسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور پولیس حکام نے اطلاع کے باوجود کوئی ایکشن نہ لیا۔

وکیل دانش اشراق عباسی نے سوال کیا کہ 25 ہزار سیاح کی گنجائش والے مری میں ایک لاکھ سے زائد سیاحوں کو آنے کی اجازت کیوں دی گئی؟

انہوں نے کہا کہ تمام اعلیٰ حکام کا ایکشن نہ لینا مجرمانہ غفلت ظاہر کرتا ہے،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کو روسٹرم روم میں طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا مطلب کیا ہے۔؟پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی ہے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کے غیر تسلی بخش جوابات پر عدالت نے این ڈی ایم اے حکام کو 11 بجے طلب کر لیا ہے۔

Facebook Comments Box