سابق پرنسپل سیکرٹری کو پلازہ فروخت کرنے کی اجازت نہ ملی
آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں فواد حسن فواد کی درخواست احتساب عدالت نے مسترد کردی، ان کا پلازہ لاہور کی مین بولیوارڈ روڈ پر ہے۔

احتساب عدالت میں آمدنی سے اثاثوں کے کیس میں فواد حسن فواد کو شاپنگ پلازہ فروخت کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، یاد رہے کہ فواد حسن فواد سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری تھے۔
احتساب عدالت میں ان کے کیس پر سماعت ہوئی، نیب لاہور کا کیس مارچ 2019 سے زیر سماعت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کار پر بریانی فروخت کرنے والے عمر کمال ریسٹورنٹ کے مالک بن گئے
بالی ووڈ لوو برڈز نے اپنی شادی کے نشریاتی حقوق کتنے کروڑ میں فروخت کیے؟
فواد حسن فواد نے پلازہ کو 9 ارب 25 کروڑ مالیت کے عوض فروخ کرنے کی درخواست کی تھی، یہ درخواست انہوں نے پچھلے سال دسمبر میں احتساب عدالت میں دائر کی تھی۔
نیب ریفرنس کے مطابق مذکورپ پلازہ مبینہ طور پر ناجائز اثاثوں سے تعمیر کیا گیا، عدالت نے سابق پرنسپل سیکرٹری کو پلازہ فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ذرائع نیوز 360 کے مطابق یہ پلازہ لاہور کے پوش علاقے مین بولیورڈ روڈ پر قائم ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 9 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پرنسپل سیکرٹری گریڈ 21 یا 22 کا سرکاری افسر ہوتا ہے، لیکن اگر یہ گریڈ 22 کا بیوروکریٹ اپنی ساری زندگی تنخواہ جمع کرتا رہے اور ایک روپیہ بھی خرچ نہ کرے تب جا کر بھی 9 ارب روپے نہیں جمع ہوسکتے۔
فواد حسن فواد کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی یا انہوں نے کچھ بڑے لوگوں کے لیے ایسے کیا کام کیے جس کی بدولت انہیں اتنی دولت سے نوازا گیا یہ امر قابل تشویش ہے۔









