وزیراعظم کا دورہ چین، کچھ صحافیوں نے اسے بھی مذاق بنادیا

غیرجانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غریدہ فاروقی اور سلیم صافی جیسے سینئر صحافیوں کو صبر کا دامن تھام کے رکھنا چاہیے تاکہ دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب نہ بن جائیں۔

وزیراعظم عمران خان چین کے چار روزہ کامیاب دورے سے وطن واپس پہنچ گئے ۔ وزیراعظم نے اپنے دورے کے اختتام سے ایک روز قبل چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات کی جبکہ آخری روز صدر شی جی پنگ سے ملاقات کی، تاہم ملاقات سے متعلق تصاویر جاری ہونے پر تاخیر ہو گئی جس پر پاکستان کے معروف صحافیوں سلیم صافی ، غریدہ فاروقی اور عمر چیمہ سمیت کئی صحافیوں نے سوالات اٹھانا شروع کردیے کہ اگر ملاقات ہوئی ہے تو اس کی تصاویر اور اعلامیے کیوں جاری نہیں ہوا ہے۔

سماجی رابطوں کی  ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے لکھا ہے کہ ” چینی صدر شی جن پنگ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ملاقات ختم ہوئے تین گھنٹے ہو چکے لیکن ابھی تک ملاقات کی تصویر جاری نہیں کی گئی؛ خاص طور پر چین کی طرف سے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کی چینی عہدیداران اور سرمایہ کاروں سے ورچوئل ملاقات

راحیل شریف نے نوازشریف سے ایکسٹینشن مانگی تھی، عرفان صدیقی کا دعویٰ

اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے مزید لکھا ہے کہ "ملاقات کوتقریباًآدھادن گزرجانیکےباوجود(جبکہ وفد پاکستان واپس پہنچ چکا)  چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات کی تصویر جاری نہ کیے جانے اور خاص طور پر چینی سائیڈ سے؛ اشارہ دیتا ہے کہ معاملات گھمبیر ہیں اور شاید یہ ایک طرح سے ایک جانب سے کوئی پیغام بھی ہو سکتا ہے۔”

جیو نیوز کے معروف اینکر پرسن اور پروگرام جرگہ کے میزبان سلیم صافی نے لکھا ہے کہ "چائنا کی سرکاری نیوز ایجنسی کی طرف سے مختلف ممالک کے وفود کے ساتھ صدر ژی کی ملاقاتوں کی تصویر جاری کی گئی ہیں جبکہ عمران خان کے ساتھ چینی وزیراعظم کی ملاقات کی تصویر جاری کی گئی ہے ۔ صدر ژی کے ساتھ ملاقات کی صرف مختصر خبر دی گئ ہے لیکن ملاقات کی تصویر ابھی تک جاری نہیں ہوئی۔”

صحافت اب جدید دنیا میں کسی بھی معاشرے کا پانچواں ستون سمجھا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں صحافت الٹی ڈگر پر چل نکلی ہے۔ اگرآپ کو کسی سے سیاسی اختلاف ہے تو آپ اس پر کرپشن کے الزامات لگانا شروع کردیتے ہیں اور کوئی مذہبی اختلاف ہے تو فتوے کفر تک پہنچ جاتے ہیں۔

پاکستان میں صحافت اپنا معیار کھوتی جارہی ہے ۔ بعض تو باقاعدہ طور پر سیاسی جماعتوں کے تنخواہ دار ٹٹو بن گئے ہیں، تاکہ مخالف سیاسی پارٹی پر اپنے قلم کے زور سے کیچڑ اچھال سکیں۔ اصل خبر کی شکل کو مسخ کردیا جائے چاہے اس میں صحافتی اصولوں کی قربانی دینا کیوں نا پڑ جائے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے ، کوئی بھی سوشل ویب سائٹ کھولو اور فیک نیوز کے انبار لگا دو کون پوچھنے والا ہے۔ ایسے ایسے صحافی دیکھنے کا تجربہ ہوا جنہوں نے سائیکل سے اپنی صحافت شروع کی تھی اور آج فور ویلرز پر مزے سے فراٹے بھر رہے ہیں۔

غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر مسئلہ یہ تھا کہ جب کل صبح خبر سامنے آئی کہ وزیراعظم عمران خان کی وطن واپسی سے قبل آخری ملاقات چینی صدر شی جی پنگ کے ساتھ ہے ، سلیم صافی ، غریدہ فاروقی اور عمر چیمہ جیسے صحافیوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے ایک ہڑبونگ مچا دی اگر ملاقات ہوئی ہے تو کوئی ویڈیو یا تصویر سامنے کیوں نہیں آئی ، اتنے وقت گزر گیا۔

تاہم وزیراعظم کے وطن واپس پہنچنے پر چائینیز اسٹیٹ میڈیا اور پاکستان میڈیا نے بھی اس ملاقات کی ویڈیو اور تصاویر شیئر کرنا شروع کردیں۔ وزیراعظم ہاؤس سے اسٹیٹمنٹ جاری ہوگیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر چیز کو شک اور شبہے کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی فیک نیوز پھیلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافی کو آرام اور تحمل سے کام لینا چاہیے تاکہ عوام کے سامنے سچائی کو بیان کیا جاسکے۔ عمران خان ، پاکستان کے وزیراعظم ہیں ان کی وجہ سے اس ملک کا ایک امیج باہر کی دنیا کے سامنے جاتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ آپ کو وزیراعظم پسند نہ ہوں ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم کی کچھ باتوں سے مجھے بھی ہوتا ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غلط اور بے بنیاد خبریں پھیلانا شروع کردی جائیں۔ وزیراعظم ، چائینیز گورنمنٹ کی دعوت پر چین گئے تھے اور لازمی بات ہے کہ انہوں نے ملاقاتیں کی ہو گیں اس معاملے میں کوئی جھوٹ کیوں بولے گا۔ آج کل جدید دور ہے ایک منٹ میں ساری دنیا میں خبر پھیل جاتی ہے۔ یہ تو اپنا ہی مذاق بنانے والی بات ہے ۔ اس لیے سلیم صافی اور غریدہ فاروقی صاحبہ کو آرام ، تحمل اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر