ریلوے سی ای او کی تقرری، حکومت کی نظرِِ انتخاب نجی شعبے پر مرکوز

حکومت چاہتی ہے کہ نجی شعبے کی کسی تجربہ کار شخصیت کو پاکستان ریلوے کا سی ای او مقرر کیا جائے، مراسلہ ارسال کردیا گیا۔

وفاقی حکومت نے نجی شعبے کی ایک تجربہ کار شخصیت کو پاکستان ریلوے کا چیف ایگزیکٹیو افسر یا سینئر جنرل مینجر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے قوانین کے تحت نجی شعبے سے کوئی شخص بھی اس عہدے پر تعینات نہیں کیا جاسکتا لیکن کابینہ کی ادارہ جاتی اصلاحات کمیٹی سے اشارہ ملنے کے بعد حکومت قانون میں تبدیلی کے بغیر یہ فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ محکمے کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہوگا لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

پاکستان ریلوے کے دیگر محکموں کیلیے اسی طرح کے اقدامات پہلے بھی کیے جاچکے ہیں، جیسا کہ فریٹ ٹرانسپورٹیشن کمپنی کا قیام۔

ایک سینئر عہدیدار نے ڈان اخبار کو بتایا کہ ادارتی اصلاحات سیل کی تجاویز کی روشنی میں وزیراعظم آفس پاکستان ریلوے کے نئے سی ای او کا انتخاب نجی شعبے سے کرنا چاہتے ہیں۔

پچھلے ہفتے نثار میمن کی ریٹائرمنٹ کے بعد ریلوے کی جانب سے وزیراعظم آفس میں حتمی منظوری کیلیے ایک مراسلہ ارسال کیا گیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق دو روز قبل وزیراعظم ہاؤس نے یہ مراسلہ وزارت ریلوے کو بھیجا جس میں مدت ملازمت اور دیگر قواعد کے متعلق پوچھا گیا جس کے بعد وزارت نے ایک تازہ مراسلہ وزیراعظم ہاؤس بھیجا ہے۔

حال ہی میں ریلوے کو ایک بڑا مسئلہ درپیش آیا جب اس کے فریٹ ٹرانسپورٹیشن کمپنی کے سی ای او جاوید صدیقی نے صرف ایک سال بعد استعفیٰ دے دیا۔

ذرائع نے ڈان اخبار کو بتایا کہ صدیقی صاحب نجی شعبے کے تجربہ کار شخص تھے، انہوں نے پاکستان ریلوے میں ‘کام کا ماحول نا ہونے’ کی شکایت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نجی شعبے سے سی ای او لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے تمام سینئر اور جونیئر افسران کو تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ قانون کے مطابق ان افسران کے پاس بھی اختیارات ہوتے ہیں۔

پاکستان ریلوے نجی افسران کے ساتھ اس لیے ترقی نہیں کرسکتا کیونکہ ریلوے کے اپنے ملازمین ان افسران کی رفتار کی مطابقت سے کام نہیں کرسکتے۔

نجی شعبے کے تجربہ کار افراد تیز تر فیصلے کرتے ہیں جب ریلوے کی نمائندگی کرنے والے افسران اس میں قانونی موشگافیاں ڈھونڈ کر عمل درآمد نہیں کرتے۔

متعلقہ تحاریر