بانی متحدہ الزامات سے بری، برطانیہ کی عدالت کا فیصلہ مذاق بن گیا

برطانیہ کی کراؤن کورٹ نے الطاف حسین کو اشتعال انگیز تقریر اور شہریوں کو دہشتگردی پر اکسانے کے الزامات مسترد کردیئے۔

برطانیہ کی عدالت نے بانی متحدہ الطاف حسین کو دہشتگردی کے الزامات سے بری کردیا، 22 اگست 2016 کو کراچی میں شہریوں کو پرتشدد حملوں کیلیے اکسانے کے الزامات کو برطانوی عدالت نے مسترد کردیا۔

12 ارکان کی جیوری الطاف حسین کے خلاف دو الزامات میں ایک فیصلے پر متفق نہ ہوسکی۔

یہ بھی پڑھیے

تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگار، دہشتگردی کی طرف مائل ہورہے ہیں، شیری رحمان

بلوچستان میں دہشتگردی: فائرنگ کے دو واقعات میں 7 افراد جاں بحق

تین دن تک جیوری ایک فیصلے پر متفق نہیں ہوسکی تھی جس کے بعد جج نے نئی ہدایات جاری کی تھیں۔

نئی ہدایات کے مطابق جیوری ممبرز کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کیا جانا تھا۔

2019 میں الزامات کے خلاف مقدمہ درج ہونے سے قبل ہی الطاف حسین کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ان کی برطانیہ میں کی گئی تقاریر پر تحقیقات کی تھیں جن پر الزام تھا کہ ان تقاریر کی وجہ سے کراچی میں فسادات ہوئے۔

برطانیہ کی پولیس نے الزام لگایا تھا کہ 22 اگست 2016 کو الطاف حسین نے کراچی میں لوگوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں براہ راست یا بلاواسطہ دہشتگردی کے اقدامات کیلیے اکسایا۔

متعلقہ تحاریر