ووٹ مسترد کرنا دھاندلی کا طریقہ، ای وی ایم سے مسئلہ حل ہوجائیگا، عمران خان

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں دوہرے نشانات کے باعث مسترد ہونے والے ووٹوں پر ٹویٹ کی، ای وی ایم کو مسئلے کا حل قرار دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں ایک بیلٹ پیپر پر دو دو نشانات سے مسترد شدہ ووٹوں کا مسئلہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں بھی اس مسئلے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مخالف امیدوار کو ووٹوں کو مسترد کروانا انتخابات میں دھاندلی کا ایک طریقہ ہے اسی وجہ سے اسٹیٹس کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سائنسدان ہونے کے دعویدار معظم نیازی کا عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان

ووٹ کا حق مل گیا تو اگلا الیکشن سمندر پار پاکستانیوں کا ہو گا، احمد بلال محبوب

وزیراعظم صاحب  نے اس ٹویٹ کے ساتھ ایک مسترد شدہ ووٹوں کا ڈیٹا شیئر کیا جس کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کو 63 ہزار 610 ووٹ ملے جبکہ پی ٹی آئی کے حصے میں 51 ہزار 523 ووٹ آئے۔

23 ہزار 113 ووٹ مسترد ہوئے اور دونوں امیدواران کے درمیان ووٹوں کا فرق 12 ہزار 87 تھا۔

ممکنہ طور پر اگر مسترد ہونے والے 23 ہزار ووٹس میں سے 13 ہزار ووٹ پی ٹی آئی کے تھے تو ووٹ مسترد ہونے کی وجہ سے اس کے امیدوار کو شکست ہوگئی۔

گزشتہ روز بھی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ آئندہ الیکشن ای وی ایم کے ذریعے ہی ہوں گے، الیکشن کمیشن مشینوں کی خریداری شروع کردے۔

متعلقہ تحاریر