پیکا کے اثرات؟: جاوید چوہدری کا اپنی ہی ویب سائٹ سے اظہار لاتعلقی

ترمیم شدہ پی ای سی اے کے نافذالعمل ہونے کے بعد، معروف اینکر پرسن نے اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیج پر چھپنے والے مواد سے اظہار لاتعلقی کردیا ہے۔

الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پی ای سی اے پیکا) میں ترمیم کے بعد مشہور کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے اپنی ہی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیج سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں جعلی خبروں اور نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے "پی ای سی اے” کے تحت سخت قوانین نافذ کیے جانے کے بعد جاوید چوہدری کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹ پر متعدد افراد کی بھنویں چڑ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن ایکٹ اور پاکستان الیکٹرانک ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری

مریم اورنگزیب کا بیان ، طلعت حسین نے متنبہ کردیا

جاوید چوہدری کی ویب سائٹ ان کے نام پر رجسٹرڈ ہے، جو ایک نجی نیوز چینل ایکسپریس نیوز کے سیاسی تجزیہ کے پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں، کل تک جاوید چوہدری کے ساتھ، ایک تردید شامل کی گئی جس میں لکھا گیا، "یہ صفحہ اور ویب سائٹ جاوید چوہدری کے پاس رجسٹرڈ ہے لیکن وہ اسے چلا نہیں رہے ہیں بلکہ تمام سطحوں پر کام ایک میڈیا ٹیم انجام دے رہی ہے۔

Pika Edit Anchor Person Javed Chaudhry

عوام اور اداروں کے نام اپنے نوٹ میں اینکر پرسن جاوید چوہدری نے لکھا ہے کہ "یہ پیج اور ویب سائٹ جاوید چوہدری کے نام رجسٹرڈ ہے لیکن یہ اسے خود آپریٹ نہیں کرتے اور تمام مراحل میڈیا ٹیم سرانجام دیتی ہے، ویب سائٹ اور پیج پر اپ لوڈ ہونے والے میٹریل کے ساتھ جاوید چوہدری کا کوئی تعلق نہیں اور اگر کسی خبر ، تصویر یا سرخی پر اعتراض ہے تو آپ اس ای میل ایڈریس پر مینجمنٹ ٹیم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔”

ای میل ایڈریس

News.box@mm.com.pk

پی ای سی اے کا اعلان

صدر مملکت عارف علوی نے اتوار کے روز پاکستان الیکٹرانک ایکٹ اور الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا تھا۔ منظور ہونے والے آرڈیننس کے مطابق اب "جعلی خبر” دینے کو 5 سال تک سزا ہوسکے گی۔

صدر عارف علوی کی منظوری سے دو آرڈیننس جاری کیے گئے جو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (PECA) 2016 اور الیکشنز ایکٹ 2017 میں تبدیلیاں لائیں گے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد صدر نے دونوں قوانین پر دستخط کیے تھے۔ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں تبدیلیاں الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) آرڈیننس 2022 کے تحت کی گئی ہیں۔

صدارتی آرڈیننس کے مطابق اب جعلی اور جھوٹی خبروں پر کسی کو کسی قسم کا استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ جعلی خبروں پر 3 سے 5 سال تک سزا ہوسکتی ہے۔ جبکہ جعلی خبر دینے والے کی ضمانت بھی نہیں ہوگی۔

نئے ترمیمی آرڈیننس کے مطابق پی ای سی اے کے تحت آنے والے مقدمات کی نگرانی ہائی کورٹ کرے گی اور ٹرائل کورٹ کو چھ ماہ کے اندر اس کیس کو ختم کرنا ہوگا۔

آرڈیننس کا کہنا ہے کہ "عدالت کسی بھی زیر التواء مقدمے کی ماہانہ پیش رفت کی رپورٹ متعلقہ ہائی کورٹ کو پیش کرے گی اور عدالت کی جانب سے مقدمے کو تیزی سے ختم کرنے میں ناکامی کی وجوہات بتائے گی۔”

ہائی کورٹس کو رپورٹ بھیجنے کے علاوہ اگر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں مقدمہ درج ہوا تو پیش رفت رپورٹ کی کاپیاں سیکرٹری قانون کو بھی بھیجی جائیں گی، تاہم اگر کسی صوبے میں مقدمہ درج ہوتا ہے تو رپورٹ کی کاپیاں "پراسیکیوشن محکموں کے صوبائی سیکریٹریز، پراسیکیوٹر جنرل یا ایڈووکیٹ جنرل” کو پیش کی جائیں گی۔

آرڈیننس ہائی کورٹ کو کسی مقدمے کی "تازہ ٹائم لائنز” جاری کرنے کا بھی اختیار دیتا ہے۔

آرڈیننس ہائی کورٹس کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ وفاقی یا صوبائی حکومت کے افسران کو اس معاملے میں پائی جانے والی  "مشکلات اور رکاوٹوں” کو دور کرنے کے لیے طلب کریں۔

متعلقہ تحاریر