تحریک عدم اعتماد، اسمبلیوں سے استعفے ، اپوزیشن کے پاس بہتر آپشن کیا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے تقریباً قومی اسمبلی کے آدھے ارکان حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل ہیں۔ سب کے سب اکٹھے استعفیٰ دے دیں اسمبلی خودبخود تحلیل ہو جائے گی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس اکثریت بنیاد پر تحریک عدم اعتماد لانے سے بہتر ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں، حکومت خود بخود تحلیل ہو جائے گی، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیر قیادت وفاقی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں اور مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں پر غور شروع کردیا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پنجہ آزمائی کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے جارہی ہے۔ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرنے والی حزب اختلاف کی جماعتیں ایک مرتبہ پھر متحد ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 27 فروری کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کررکھی ہیں۔

سیاسی ملاقاتیں

گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جو اس سے قبل پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ملتوی کر دی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ملاقات کا کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکلا ، دونوں رہنماؤں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے ملاقات میں مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے "آپ بسم اللہ کریں۔”

میڈیا اطلاعات کے مطابق سیاست میں تیزی آنے کے بعد ملاقاتوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ کل مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری سے ملاقات کی تھی جبکہ آج مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف آج پیپلزپارٹی کے کوچیئرمین سے ملاقات کررہے ہیں۔ یہ ملاقات بلاول ہاؤس لاہور میں ہوگی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے آپشن کو مسترد کر دیا ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کو وزیراعظم نامزد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

انہوں نے یہ اشارہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا (کے پی) کے صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران دیا  تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا بیان

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے موجودہ تحریک عدم اعتماد کی بازگشست پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن شوق سے تحریک عدم اعتماد لائے ، یہ لوگ ناکام ہوں گے۔ 172 کا نمبر پورا کرنا آسان نہیں۔ حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں کہے گی فون کال آئی گئی تھی اور کسی کو کورونا ہو گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت کے تحریک عدم اعتماد لانے جارہی ہے ۔ مقصد وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنا ہے، پھر ایک نیا وزیراعظم لایا جائے گا۔ جبکہ اپوزیشن فوری طور پر ملک میں انتخابات بھی چاہتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ضرورت کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے تقریباً قومی اسمبلی کے آدھے ارکان حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل ہیں۔ سب کے سب اکٹھے استعفیٰ دے دیں۔ جیسا کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین کے لوگ بھی ان کے ساتھ تو ترین کے لوگ بھی استعفی ٰ دے دیں۔ وہاں پر حکومت بھی آؤٹ نمبر ہو جائے گی اور اسمبلی سیدھی سیدھی تحلیل ہو جائے گی۔ اور معاملہ انتخابات کی جانب چلے جائے گا۔ نہ لانگ مارچ کی ضرورت رہے گی نہ تحریک عدم اعتماد کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اسی طرح سے سندھ کے اندر پیپلز پارٹی کی حکومت اسبملی تحلیل کردے ، الیکشن ہو جائیں گے۔ جے یو آئی ف بلوچستان سے استعفییٰ دے تو اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔ اسی طرح کے پی کے میں ن لیگ ، اے این پی ، پی پی پی ، جے یو آئی ف ریزائن کردے اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جائے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ استعفوں سے حکومت کو الیکشن کی جانب جانا پڑے گا، اور اگر ایسا نہیں اور صرف تحریک عدم اعتماد کو لانا اور عمران خان کو ہٹانا ہے انہیں ہٹانے کے بعد کریں گے کیا کس کو بنائیں گے وزیراعظم ؟۔

ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن انتہائی کنفیوژن کا شکار ہے ۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ عمران خان کو ہٹا کر شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم بنا دیا جائے۔

متعلقہ تحاریر