آزادیءِ صحافت کے علمبرداروں نے آپس میں سینگ پھنسا لیے
ابصار عالم نے بتایا کہ 2003 میں دورہ روس کیلیے صحافیوں کے اخراجات وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈ سے ادا کیے گئے، عادل شاہ زیب نے کہا کہ میرے اخراجات ڈان اٹھا رہا ہے۔

سابق چیئرمین پیمرا اور صحافی ابصار عالم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف 2003 میں ماسکو گئے تو دی نیشن اخبار کی طرف سے ان کی ڈیوٹی لگی اور دفتر نے خرچہ اٹھایا۔
۱) ڈیلی الاؤنس تین دن کے دورے کا تھا مطلب ایک دن کا پانچ سو ڈالر جس میں سے ہوٹل روم کا کرایہ بھی ادا کرنا تھااور کھانا بھی
۲) دفتر نے ہمیں یہی بتایا تھا کہ ہم خود بھیج رہے ہیں لئٰذا شک کا سوال ہی پیدانہیں ہوا
۳) میری/حامد میر کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے 2014 میں خفیہ فنڈ بند کر دیا— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) February 22, 2022
ابصار عالم نے کہا کہ تین دن کے حساب سے 1500 ڈالرز کا الاؤنس ملا جس کے بارے میں 2016 میں پتا چلا کہ یہ تمام رقم وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈ سے ادا کی گئی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ میری اور حامد میر کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے 2014 میں خفیہ فنڈ بند کر دیا تھا۔
اس ٹویٹ کے جواب میں ڈان نیوز کے اینکرپرسن عادل شاہ زیب نے کہا کہ میں ڈان ٹی وی کی درخواست پر ماسکو آیا ہوں، میرے اخراجات ڈان ہی برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پر سب کے سامنے مباحثہ کرتے ہیں۔
Dear Absar, I am in Moscow on the request of Dawn TV. As far as I understand all of my expenses are paid for by Dawn. If that’s not the case please make it public as soon as possible, I should be grateful. Let’s make it a public debate. https://t.co/c1OX9D8h7R
— Adil Shahzeb (@adilshahzeb) February 22, 2022
ابصار عالم نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے اخبار کی طرف سے ڈیوٹی سونپی گئی تھی، میں نے اپنے متعلق ایک سچ کہا ہے۔ میں نے اس دورے میں شامل کسی اور صحافی کا نام نہیں لکھا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے نا تو آپ پر انگلی اٹھائی ہے نا ہی موجودہ دورے میں شامل کسی شخص کی نشاندہی کی ہے، آپ کا نکتہ کیا ہے؟ آپ وضاحت کیوں دے رہے ہیں؟
Do I need to take permission from anyone, including your highness, to make confessions about my past or present? Happy to note news orgs, which do not pay their employees enough, in time, have the largesse to fund their staff’s air lift to Kempinski Moscow for a six nights’ stay. https://t.co/HLh6PlfKjc
— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) February 23, 2022
ایک دوسری ٹویٹ میں ابصار عالم نے کہا کہ کیا مجھے اپنے ماضی یا حال کے متعلق بات کرنے سے پہلے آپ سے اجازت لینا ہوگی؟ مجھے تو خوشی ہے کہ وہ صحافتی ادارے جو کہ اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں دے رہے وہ اپنے اسٹاف کو ماسکو میں چھ راتوں کے قیام اور ہوائی سفر کے اخراجات ادا کر رہے ہیں۔
People keep saying things. We need to develop thick skin to handle such Qs calmly as we expect from the pols. It’s just coincidental that my confession is being linked to the current Moscow trip. Too bad!
I respect you and have no doubts about your integrity but the government’s. https://t.co/QE7AxqYUcV— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) February 23, 2022
عادل شاہ زیب نے کہا کہ آپ نے اپنے ‘اعتراف’ بھری ٹویٹ پر اٹھنے والے سوالات پڑھ لیے ہوں گے۔ میں نے صرف اپنا موقف سامنے رکھا ہے تاکہ کسی کو بھی تحقیق کرنی ہو تو میرا موقف موجود ہو۔
ابصار عالم نے کہا کہ لوگ باتیں کرتے رہتے ہیں، ہمیں ایسے سوالات کا سامنا کرنے کیلیے اعصاب مضبوط رکھنا ہوں گے، یہ محض اتفاق ہے کہ میرا اعتراف موجودہ ماسکو دورے سے جوڑا جا رہا ہے۔
Wonderful. That should be the spirit.
Now enjoy Moscow’s chilly but colourful environ, be happy and file exclusives.
Veterans’ tip: What happens in Moscow stays in Moscow 😉😄 https://t.co/iddyiUI2c4— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) February 23, 2022
انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں اور آپ کی دیانتداری کے متعلق کوئی شک نہیں ہے۔
ابصار عالم نے ٹویٹ کی کہ زبردست، یہی جذبہ ہونا چاہیے، اب ماسکو کے ٹھنڈے اور رنگین ماحول سے لطف اندوز ہوجائیں۔









