آزادیءِ صحافت کے علمبرداروں نے آپس میں سینگ پھنسا لیے

ابصار عالم نے بتایا کہ 2003 میں دورہ روس کیلیے صحافیوں کے اخراجات وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈ سے ادا کیے گئے، عادل شاہ زیب نے کہا کہ میرے اخراجات ڈان اٹھا رہا ہے۔

سابق چیئرمین پیمرا اور صحافی ابصار عالم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف 2003 میں ماسکو گئے تو دی نیشن اخبار کی طرف سے ان کی ڈیوٹی لگی اور دفتر نے خرچہ اٹھایا۔

ابصار عالم نے کہا کہ تین دن کے حساب سے 1500 ڈالرز کا الاؤنس ملا جس کے بارے میں 2016 میں پتا چلا کہ یہ تمام رقم وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈ سے ادا کی گئی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ میری اور حامد میر کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے 2014 میں خفیہ فنڈ بند کر دیا تھا۔

اس ٹویٹ کے جواب میں ڈان نیوز کے اینکرپرسن عادل شاہ زیب نے کہا کہ میں ڈان ٹی وی کی درخواست پر ماسکو آیا ہوں، میرے اخراجات ڈان ہی برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پر سب کے سامنے مباحثہ کرتے ہیں۔

ابصار عالم نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے اخبار کی طرف سے ڈیوٹی سونپی گئی تھی، میں نے اپنے متعلق ایک سچ کہا ہے۔ میں نے اس دورے میں شامل کسی اور صحافی کا نام نہیں لکھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے نا تو آپ پر انگلی اٹھائی ہے نا ہی موجودہ دورے میں شامل کسی شخص کی نشاندہی کی ہے، آپ کا نکتہ کیا ہے؟ آپ وضاحت کیوں دے رہے ہیں؟

ایک دوسری ٹویٹ میں ابصار عالم نے کہا کہ کیا مجھے اپنے ماضی یا حال کے متعلق بات کرنے سے پہلے آپ سے اجازت لینا ہوگی؟ مجھے تو خوشی ہے کہ وہ صحافتی ادارے جو کہ اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں دے رہے وہ اپنے اسٹاف کو ماسکو میں چھ راتوں کے قیام اور ہوائی سفر کے اخراجات ادا کر رہے ہیں۔

 

عادل شاہ زیب نے کہا کہ آپ نے اپنے ‘اعتراف’ بھری ٹویٹ پر اٹھنے والے سوالات پڑھ لیے ہوں گے۔ میں نے صرف اپنا موقف سامنے رکھا ہے تاکہ کسی کو بھی تحقیق کرنی ہو تو میرا موقف موجود ہو۔

ابصار عالم نے کہا کہ لوگ باتیں کرتے رہتے ہیں، ہمیں ایسے سوالات کا سامنا کرنے کیلیے اعصاب مضبوط رکھنا ہوں گے، یہ محض اتفاق ہے کہ میرا اعتراف موجودہ ماسکو دورے سے جوڑا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں اور آپ کی دیانتداری کے متعلق کوئی شک نہیں ہے۔

ابصار عالم نے ٹویٹ کی کہ زبردست، یہی جذبہ ہونا چاہیے، اب ماسکو کے ٹھنڈے اور رنگین ماحول سے لطف اندوز ہوجائیں۔

متعلقہ تحاریر