نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت،والدین بری

مجرم پر زیادتی ،اغوا اور حبس بے جا میں رکھنے کے الزامات بھی ثابت،36سال قید بامقشت اور 2 لاکھ جرمانہ بھی عائد،شریک ملزمان چوکیدار افتخار اور ڈرائیور جان محمد کو 10،10سال قید،گھر کا خانسامہ اور تھراپی ورکس کے تمام ملازمین بھی بری

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم  ظاہر جعفر کو سزائے  موت سنادی۔

عدالت نے شریک ملزمان چوکیدار افتخار اور ڈرائیور جان محمد  کو 10 ، 10 سال قید کی سزا  سنائی گئی ہے۔عدالت نے  مرکزی  ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت آدم جی، خانسامہ جمیل اور تھراپی ورکس کے  تمام ملازمین کو بری کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

نور مقدم قتل کیس، ملزم ظاہر جعفر کی تینوں درخواست مسترد

نور مقدم قتل کیس پر اداکارائیں یک زبان

عدالت نے سزائے موت کے ساتھ ملزم ظاہر جعفر کو نور مقدم سے ریپ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر25 سال قید بامشقت اور 2 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ اغوا کا جرم ثابت ہونے پر 10 سال قید کی سزا بھی سُنائی ۔ نور مقدم کو حبس بیجا میں رکھنے پر بھی مجرم ظاہر جعفر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے 22 فروری کو فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔نورمقدم کیس  کا ٹرائل 4ماہ 8دن تک جاری رہا ۔

قانونی ماہرین مجرم کے والدین کی بریت پر حیران

ماہرین قانون نے مجرم ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی  کی برعیت پر  حیرانی کااظہار کردیا۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ملزم  قتل سے قبل اپنے والدین  ذاکر جعفر اور عصمت آدمی  سے مسلسل رابطے میں تھا مگر انہوں نے پولیس کو آگاہ کرنے کے بجائے تھراپی ورکس کے ملازمین کو آگاہ کرکے جرم کا ارتکاب کیا۔

عدالت نے اس کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔ جن میں ذاکر جعفر،عصمت آدم، افتخار، جمیل، جان محمد اور تھراپی ورک کے طاہر ظہور شامل تھے ۔مقدمے کی سماعت کے دوران 19 گواہ عدالت میں پیش کیے گئے جبکہ ملزم کے گھر سے حاصل ہونے والی ویڈیو فوٹیج کی تصدیق کے حوالے سے مرکزی ملزم کو فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ بھی کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر ٹرائل کورٹ نے مزید ایک ماہ کی مہلت کی استدعا کی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے منظور کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے خاتون ہونے کی بنیاد پر ملزم کی والدہ کی ضمانت پہلے ہی منظور کرلی تھی جبکہ مرکزی ملزم اس کےوالد اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید تھے۔

 نور مقدم قتل  کیس میں کب کیا ہوا؟

20 جولائی 2021 کو سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو اسلام آباد میں قتل کردیا گیا اور اسی روز اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا گیا۔

23جولائی کو وزیراعظم عمران خان نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اس مقدمے کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا حکم دیا۔24 جولائی 2021 کو ظاہر جعفر کے ضمنی بیان کے بعد ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو بھی اس مقدمے میں نامزد ملزمان میں شامل کر لیا گیا اور25 جولائی کو ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

2 اگست کو اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اسے عدالتی ریمانڈ میں جیل بھیج دیا۔5 اگست 2021 کو سیشن جج کی عدالت نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرد یا۔10 اگست  کو وزارت داخلہ نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے تمام ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا ۔

9 ستمبر کو مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔29ستمبر کواسلام آباد ہائی کورٹ نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔14اکتوبر کو ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی اور اسی دوران ظاہر جعفر نے عدالت میں کھڑے ہو کر اعتراف جرم کیا کہ اس نے نورمقدم کو قتل کیا ہے۔

عدالت نے نور مقدم کیس میں تمام گواہوں کے بیانات، جرح اور 342 بیان کا عمل مکمل ہونے پر 22فروری کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھاجو آج 24 فروری کو سنایا گیا۔

متعلقہ تحاریر