رانا محمد شمیم ​​نے توہین عدالت کیس میں فرد جرم کو چیلنج کردیا

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 جنوری کو دی نیوز میں چھپنے والے حلف نامے کی بنیاد پر رانا محمد شمیم ​​پر فرد جرم عائد کی تھی۔

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج ڈاکٹر رانا محمد شمیم ​​نے توہین عدالت کیس میں اپنے خلاف فرد جرم کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ سابق چیف جج نے اپنے ایک بیان حلفی میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) ثاقب نثار پر شریف خاندان کے خلاف کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے "دی نیوز” میں شائع ہونے والے بیان حلفی سے متعلق خبر کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر شمیم، جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان، انویسٹی گیشن ایڈیٹر انصار عباسی اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر عامر غوری کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

بے بنیاد الزام تراشی، مراد سعید نے ریحام خان کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا

صحافی نذیر ناجی کے صاحبزادے انیق ناجی والد کی ڈگر پر چل پڑے

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 جنوری کو رانا محمد شمیم ​​پر اس حلف نامے کی بنیاد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ تاہم، عدالت نے صحافیوں اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کے خلاف فرد جرم کی استدعا موخر کردی تھی۔

ڈاکٹر رانا محمد شمیم نے اپنے بیان حلف میں الزام لگایا گیا تھا کہ "سابق چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کے جج کو فون کر کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 2018 کے عام انتخابات تک قید میں رکھنے کی ہدایت کی تھی۔”

سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے گذشتہ روز اپنے وکیل "ایڈووکیٹ لطیف آفریدی” کے توسط سے دائر انٹرا کورٹ اپیل میں استدعا کی کہ “کارروائی کے دوران معزز سنگل جج نے کھلی عدالت میں کہا کہ یہ کارروائی توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہے بلکہ اس کو انکوائری سمجھا جائے۔ تاہم معزز عدالت نے الزام کی بنیاد پر کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے صرف اپیل کنندہ پر فرد جرم عائد کی۔”

اپیل کنندہ نے شریک ملزمان کے خلاف چارجز موخر کرنے کی کارروائی کو فوجداری قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ نئی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپیل کنندہ نے کسی بھی فرد یا ادارے کو حلف نامہ دینے یا لیک کرنے واضح انکار کیا ہے۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جو اخبار چھپنے والے حلف نامے سے ظاہر ہوتا ہو کہ اس کی اشاعت میں اپیل کنندہ کا ہاتھ ہے۔

اپیل میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی ایک فرد کے خلاف کارروائی کرنا آئین کے آرٹیکل 10-A کے خلاف ہے۔

متعلقہ تحاریر