حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کی مہم ، ٹائیں ٹائیں فش

چوہدری برادران کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی باتیں صرف افسانے ہیں ، حزب اختلاف کی جانب سے بڑی بڑی آفرز آئیں مگر ہم نے سب ٹھکرا دیں۔

حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی  تیاریوں کے بعد وزیراعظم عمران خان نے خود سیاست کے میدان کا محاذ سنبھال لیا۔ چوہدری برادران سے وزیراعظم کی ایک ہی ملاقات نے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد تیاریوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف لانگ مارچ نے وزیراعظم عمران خان کو سیاست کی بساط پر نئی کروٹ لینے پر مجبور کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بچہ جمورا گھوم جا، جہانگیر ترین ایک ہفتے کی لندن یاترا پر روانہ

ن لیگ نے پھردیر کردی،ق لیگ تحریک عدم اعتمادکی حمایت سے پیچھے ہٹ گئی

وزیراعظم عمران خان نے منگل کے روز چوہدری برادران سے ان گھر ملاقات کی اور حزب اختلاف کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

ملاقات کے دوران چوہدری برادران نے وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد کی صورت میں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرا دی۔

ملاقات کی اندرونی کہانی کےمطابق چوہدری برادران نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد کی باتیں صرف افسانے ہیں ، حزب اختلاف کی جانب سے بڑی بڑی آفرز آئیں مگر ہم نے سب ٹھکرا دیں۔

چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا ہم آپ(وزیراعظم) کے ساتھ ہی سیاست کریں گے ۔ انہوں نے وزیراعظم کو مکمل حمایت کا یقین دلا دیا۔

چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا ایسی چال کا کیا فائدہ جس میں کامیابی کا کوئی چانس ہی نا ہو۔

شہباز شریف سے ملاقات کا حوالے دیتے ہوئے چوہدری برادران کا کہنا تھا ہم نے شہباز شریف کو بتا دیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی تو وزیراعظم پہاڑ پر ہوں گے اور ہم زمین میں دھنس جائیں گے۔

اس موقع پر چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعظم کو مہنگائی پر قابو پانے کا مشورہ دیا جس پر وزیراعظم نے اپنی قوم سے خطاب کی تقریر اور سرمایہ کاروں کے لیے معاشی پیکج کے اعلانات کا حوالہ دیا ۔

وزیراعظم کی چال اور حزب اختلاف

گذشتہ ایک ماہ کے دوران چوہدری برادران کا گھر سیاست کا گڑھ بن رہا ۔ سب سے پہلے آصف علی زرداری نے چوہدری برادران سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی ، پھر چوہدری برادران نے بلاول ہاؤس لاہور میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے 14 سال بعد چوہدری برادران کے گھر چکر لگایا اور تحریک عدم اعتماد کے لیے درخواست کی ۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی چوہدری برادران سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور تحریک عدم اعتماد پر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔

وزیراعظم عمران خان نے منگل کے روز چوہدری برادران سے ملاقات نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کی جانے والی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ یعنی اپوزیشن کی تمام ملاقاتیں گفتاً نشستاً اور برخستاً تک محدود ہو کر رہ گئیں۔

تبصرے اور تجزیے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے چند اقدامات کے ساتھ ہی ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل گیا ہے جو بظاہر اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی مہم چلانے کے حق میں جا رہا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سب سے اہم مورچے پنجاب کی جانب رخ کرکے اپوزیشن کو پسپائی مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے سب کے ساتھ ایک طویل ملاقات کی اور ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ، اصل میں یہ ملاقات تمام ارکان کی  حمایت حاصل کرنے کا ایک بہانہ تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا اگلا پڑاؤ چونکہ کراچی ہو گا ، جہاں وہ اپنی اتحادی جماعت ایم کیو ایم سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کا مقصد ان کے اعتماد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعتماد کو بحال کرنا ہے ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی سیاسی چال کر دیکھتے ہوئے سب سے زیرک سیاست دان آصف علی زرداری کنارے پر لگ کر بیٹھ گئے اور تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو والی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ تاہم ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری سڑکوں پر ہیں اصل میں وہ بھی لانگ مارچ نہیں کررہے بلکہ وہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ صرف مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔ مریم بی بی اور نواز شریف پرسکون ہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ یہ دال گلنے والی نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر