سپریم کورٹ بار کی جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کی مذمت

ایس سی بی اے نے پیکا ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف 'تضحیک آمیز اور توہین آمیز' مہم کی شدید مذمت کی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعتوں کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سوشل میڈیا پر ’تضحیک آمیز اور توہین آمیز‘ مہم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے ایک بیان میں کہا کہ پروپیگنڈہ مہم کا مقصد عدلیہ کو بدنام کرنا ہے۔ ایس سی بی اے نے پیکا ایکٹ کے خلاف چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اقدامات کو سراہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاک بحریہ نے ایک اور بھارتی آبدوز کاسراغ لگالیا

پنجاب حکومت کی ریٹائر آئی جی صاحبان پر بےجا کرم اور نوازشات

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ایکٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ایکٹ کے تحت سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے اور اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے پروپیگنڈہ مہم چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پیکا آرڈیننس کے مندرجات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گذشتہ 20 فروری کو ترمیمی آرڈیننس کے تحت پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کی منظوری دی تھی ۔

آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کسی بھی شخص کو کسی دوسرے فرد کے تشخص پر جعلی خبر دینے کی صورت میں 3 سے 5 سال کی سزا دی جاسکتی ہے۔

آرڈیننس کے تحت درخواست دینا والا شخص متاثرہ فریق تصور کیا جائے گا۔ جعلی خبر کو قابل دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے، جوکہ ناقابل ضمانت ہو گا۔

صدارتی آرڈیننس کے تحت ٹرائل کورٹ 6 ماہ کے اندر اندر کیس کا فیصلہ کرے گی اور کیس کی تفصیلات ہر ماہ کی بنیاد پر متعلقہ ہائی کورٹ میں جمع کرائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے گذشتہ سال دسمبر میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک جج بھی تنقید سے محفوظ نہیں ہے ، تاہم وہ تنقید عدلیہ کے مفاد میں ہونی چاہیے۔ عدلیہ کا معاشرے میں بلند مقام اپنے کردار کی وجہ سےہونا چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 16 دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما مسعود الرحمان عباسی کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی تھی، جنہیں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد پر تنقید کرنے پر جیل میں بند کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عوامی تنقید کی وجہ سے ججز کی آزادی کسی طور پر بھی متاثر نہیں ہوئی۔ تاہم تنقید کرنے والوں کو سخت اور غیر شائستہ زبان کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر