وزیراعظم نے اپنی حکومت کے خلاف بین الاقوامی سازش کا ذکر کرتے ہوئے خط لہرا دیا
پریڈ گراؤنڈ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ میرے حکومت کو گرانے کے لے بین االاقوامی طاقتیں دباؤ ڈال رہی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کے پرانے لیڈروں کی وجہ سے دھمکیاں مل رہی ہیں، ماضی میں ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، مگر آج فارن فنڈنگ سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گرانے کی سازش ہورہی ہے، بین الاقوامی طاقتیں میری حکومت کو گرانے کے در پر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے آزادانہ خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی تو ان کو پھانسی دے دی گئی ، مگر آج وقت تبدیل ہو گیا ہے ، آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔
اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر وہ لیڈر تھا۔ بھٹو نے جب آزادانہ خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف آج جیسے حالات پیدا کردیے گئے ، ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ، مولانا فضل الرحمان اور ن لیگ جیسی پارٹیوں نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی ، بلاول بھٹو زرداری نے سیاست تو کرنی ہے نانا کے نام پر ، مگر کرسی کی خاطر انہیں لوگوں سے مل رہے ہیں جنہوں نے نانا کو پھانسی دلوائی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
سیکورٹی فورسز کا سبی میں کامیاب آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک ، ایک سپاہی شہید
پاک بحریہ کی دوحہ میں بین الاقوامی بحری دفاعی نمائش میں شرکت
عمران خان کا کہنا تھا کہ آج ذوالفقار علی بھٹو والا وقت نہیں ہے ۔ قاتل اور مقتول مل گئے ہیں، قاتل اور مقتول کو اکٹھے کرنے والوں کا بھی ہمیں پتا ہے ۔ اس سازش کا ہمیں تین ماہ سے پتا ہے ۔ باہر سے ملک کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا جارہا ہے ، ملک کو توڑنے کے لیے باہر سے کوشش کی جارہی ہے ۔ باہر کے پیسے کی مدد سے حکومت کو گرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کوئی چیز چھپتی نہیں ہے۔ پیسہ باہر کا ہے لوگ ہمارے استعمال ہورہے ہیں۔ ہمیں پتا ہے کہاں کہاں سے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کا سارا ڈرامہ اس لیے ہورہا ہے کہ میں بھی پرویز مشرف کی طرح گھٹنے دوں، میں ان کو این آر او دے دوں ، حکومت جاتی ہے جائے ، جان جاتی ہے جائے ، مگر ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ پہلے دن سے بلیک میل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وائٹ کالر کرائم کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جاتا ہے ۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں آج اپنی قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ، جس طرح سے آپ میری کال پر یہاں آئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج قوم سے اپنے دل کی باتیں کرنی ہیں اور بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگوں کے ضمیر کا سودا ہورہا ہے ، میری حکومت گرانے کا سودا ہو رہا ہے ، پیسے کی لالچ سے لوگوں کے ضمیر خریدے جارہے ہیں، ہمارا ملک ایک نظریے کے تحت بنا تھا ، میں 25سال سےاس نظریے کو لے کر چل رہا ہوں ، جو لوگ نہیں بکے انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، پاکستان کا نظریہ اسلامی فلاحی ریاست تھا۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا تھا ، لوگ پوچھتے ہیں عمران خان تم دین کی اتنی باتیں کیوں کرتے ہو۔ لوگ پوچھتےہیں کہ آپ سیاست کے لیے دین کو استعمال کیوں کرتے ہو۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست میں بچوں اور بزرگوں کی ذمہ داری اٹھائی گئی تھی ، یورپ میں اپنے بچوں اور بڑھوں کی ذمہ داری اٹھائی جاتی ہے ۔ حال ہی میں دنیا نے دیکھا چین نے اپنے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ پاکستانیوں یاد رکھنا نبی کریم ﷺ رحمت العالمین تھے۔ قرآن مجید میں لکھاہے کہ تم نبی ﷺ کے راستے پر چلو تو تم پر رحمتیں آئیں گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری حکومت کو گرانے کے لیے باہر سے سازش ہورہی ہے ، خطاب کے آخر میں بتاؤں گا کہ باہر سے کون سازش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا تھری اسٹوجز والی اپوزیشن میں ایک چیری بلاسم ہے ، ایک ڈیزل ہے ، ایک بیماری ہے اور ایک بھگوڑا ہے ۔ ان ساروں نے مجھ پر تنقید کی ۔ پیٹرول اور فضل الرحمان کی قیمت میں 10 روپے کمی کی گئی ۔ قوم سمجھ لے کہ میں ان کو این آر او کیوں نہیں دیتا ، وہ قومی تباہ ہو گئیں جن کے چھوٹےچور جیلوں میں تھے اور بڑے چوروں کو این آر او دے دیا گیا ۔ پاکستان کی بدقسمتی نہیں بلکہ بہت سے ممالک کی بدقسمتی ہے ۔ چھوٹا چور ملک کو تباہ نہیں کرتا بلکہ بڑا ڈاکو ملک کو تباہ کرتا ہے۔
جلسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا جنرل پرویز مشرف نے اپنا اقتدار بچانے کی خاطر چوروں کو این آر او دیا تھا، سارا ڈرامہ اس لیے ہورہا ہے کہ عمران خان بھی مشرف کی طرح گھٹنے ٹیک دے۔ تین چوہے جو اکٹھے ہوئے ہیں وہ 30 سال سے ملک کولوٹ رہے ہیں، کروڑوں نہیں اربوں روپے کی پراپرٹی ان کی باہر پڑی ہے۔ مشرف کے این آر او سے ان ڈاکوؤں نے 10 سال تک لوٹ مار کی۔ مشرف نے ظلم کیا اپنی حکومت بچانے کے لیے ان چوروں کو این آر او دے دیا ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا 100 سال بعد کورونا وائرس کی شکل میں وبائی مرض آیا ، پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا ، کئی ممالک نے سب کچھ بند کردیا ، کئی ممالک میں دہاڑی دار مزدور بے روزگار ہو گئے ، میں نے پاکستان بند نہیں کیا ، کہا گیا عمران خان پاکستان کو تباہ کررہا ہے ، سندھ حکومت نے بھی میری بات نہیں مانی۔ ہمارے دور میں اوورسیز پاکستانیوں کو سہولتیں دی گئیں، ہمارے دور میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان آئے ، تعمیراتی انڈسٹری کے لیے سہولتوں کے پیکج دیئے ، آج پاکستان کی انڈسٹری تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ آج ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو مزدور نہیں مل رہے ہیں، اسمال اور میڈیم انڈسٹری کو ہم نے نئے پیکجز دیے۔ پہلی مرتبہ حکومت انڈسٹری کے ساتھ کھڑی ہے ۔ شوگر ملز مافیا کسانوں کو پورے پیسے نہیں دیتی تھی کٹوتی کرتی تھی ، ہم کسانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے انہیں ان کے پیسے دلوائے انہیں ان کا حق دیا ، کسانوں نے اپنا پیسہ زمین لگایا اور گنے کی پیداوار بڑھی ۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ کس کا تھا اللہ کا شکر ہے وہ کام کس سے لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا اپوزیشن والے کہتے تھے اس حکومت نے کچھ نہیں کیا ، انہوں نے 30 سال حکومت کی ، انہوں نے کیا کیا؟ آج ملک بھر میں پانی مسائل ہیں انہوں نے اس کے لیے کیا کیا؟ پہلی مرتبہ ملک میں ڈیمز بن رہے ہیں، پشاور کے لوگوں کو خوشخبری دیتا ہوں 2025 میں مہمند ڈیم تعمیر ہو جائے گا ، مہمند ڈیم سے پشاور کے لوگوں کو پانی میسر ہو گا، کسانوں کو پانی ملے گا بجلی پیدا ہو گی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مریم نواز نے ساری زندگی ایک گھنٹہ کام نہیں کیا ہو گا۔ کانپیں ٹانگنے والے کو اتنی عمر میں اردو بولنی نہیں آئی ، کہتا ہے میں لیڈر بننا چاہتا ہوں ، میں زرداری کو کہتا ہوں ذرا اس کو بڑا تو ہولینے دو ، بلاول کہتا ہے نیب نے بلایا تو رو پڑوں گا۔
ریکوڈک کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 11 سال قبل بلوچستان میں کوئلے اور تانبے کی کانیں تھی ِ ریکوڈک کے معاملے میں باہر کی کمپنیاں ہمیں عدالت میں لے گئیں ، پاکستان کو جرمانے کے طور پر 2000 ارب روپے کا جرمانہ کیا گیا، دونوں کی حکومتیں آئیں مگر کچھ نہیں کیا گیا ، یہ جرمانہ ہو جاتا تو بیرون ممالک میں ہمارے اثاثے ضبط ہو جاتے ، ہماری حکومت نے 2 ہزار ارب روپے کا جرمانہ ختم کرایا اور اسی کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ دیا گیا ، آج وہی کمپنی پاکستان میں 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کررہی ہے۔ ہم نے جو اقدامات اٹھائے اس کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہو گا۔









