آخری دم تک مقابلہ کرونگا، وزیراعظم کا ملکی و غیرملکی قوتوں کو پیغام

اتوار کو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہوجائے گا، سوچ لیں غلامی کا راستہ اختیار کرنا ہے یاد خودداری کا؟ عمران خان کا قوم سے خطاب۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اتوار کو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہوگا، سوچ لیں کہ غلامی کا راستہ اختیار کرنا ہے یا خودداری کا۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو ہمیں بیرون ملک موجود اپنے سفیر کے ذریعے ایک پیغام موصول ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس پیغام میں واضح لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی تو پاکستان کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ پیغام ہمارے سفارتکار کو دیا گیا، کہا گیا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہا تو ہمارے تعلقات خراب ہونگے اور آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پیغام میں وجہ نہیں بتائی گئی کہ ہم سے ناراضگی کس بات سے ہے؟

عمران خان نے کہا کہ قوم سے سوال کرتا ہوں، کیا یہ ہماری حیثیت ہے کہ کوئی بھی ملک ہمیں ڈکٹیشن دے؟

انہوں نے کہا کہ روس جانے کا فیصلہ دفتر خارجہ اور عسکری حکام کی مشاورت سے کیا لیکن بیرون ملک کا عہدیدار اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔

غیر ملکی عہدیدار نے کہا کہ روس جانے کا فیصلہ صرف وزیراعظم عمران خان کا تھا۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان غیرملکیوں کے رابطے اُن لوگوں سے ہیں جو کہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔

یہ چاہ رہے ہیں کہ عمران خان جائے لیکن اگر عدم اعتماد پیش کرنے والے آجائیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔

قوم سے سوال ہے، کیا آپ ان لوگوں کو دوبارہ آنے کی اجازت دیں گے جن پر نیب کے کیس ہیں، جنہوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی؟

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے پہلے اس خط کو رد کردیا اور کہا کہ اگر ایسا کوئی خط وزیراعظم کو لکھا گیا ہے تو ہم اُن کے ساتھ ہیں۔

آج جب پارلیمانی کمیٹی کے سامنے وہ خط رکھا گیا تو آپ لوگ کیوں نہیں آئے؟

وزیراعظم نے بتایا کہ سب سے پہلے یہ خط وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا، اس کے بعد آج قومی سلامتی کمیٹی کو بھی دکھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے کہا گیا استعفیٰ دیں لیکن میں آخری گیند تک مقابلہ کروں گا، میں جدوجہد کر کے یہاں پہنچا ہوں، مجھے مقابلہ کرنا آتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں کسی صورت اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا، یہ نا سمجھیں کہ میں خاموش بیٹھ جاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی اور ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہوجائے گا۔

کیا ہم غلامانہ پالیسی کا ساتھ دینگے؟ کرپٹ بدعنوانوں کا ساتھ دینگے؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر میں برا تھا تو اراکین اسمبلی استعفے دے دیتے لیکن انہوں نے25 25 کروڑ روپے دیکھ کر اپنے ضمیر کا سودا کرلیا۔

نظریات کا نہیں ضمیر کا سودا ہو رہا ہے، ملک کا سودا ہو رہا ہے، ملک کی سلامتی کا سودا ہو رہا ہے۔

جن لوگوں نے سودے کرلیے ہیں انہیں کہتا ہوں کہ ہمیشہ کیلیے آپ پر مہر لگ جائے گی، لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ آپ نے ملک کا سودا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس حکومت کو گرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس نے آزاد خارجہ پالیسی بنائی۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک ایک غدار کی شکل یاد رکھیں، یہ قوم نہیں بھولے گی، نا آپ کو معاف کرے گی، نا آپ کو سپورٹ کرنیوالوں کو معاف کرے گی۔

متعلقہ تحاریر