عمران خان نے بطور وزیراعظم آخری خطاب میں ترپ کا پتہ چل دیا

عمران خان نے امریکا مخالف بیانیہ ترتیب دیکر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی واضح کردی، اپوزیشن جماعتوں کو بھی دہری مشکل میں مبتلا کردیا

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بطور وزیراعظم قوم سے اپنے آخری خطاب میں ترپ کا پتہ چل دیا۔

عمران خان نے امریکا مخالف بیانیہ ترتیب دیکر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی واضح کردی اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی دہری مشکل میں مبتلا کردیا۔ فوری الیکشن کی صورت میں بھی نقصان موجودہ اپوزیشن کو اٹھانا پڑے گا اور اگرالیکشن ڈیڑھ سال بعد منعقد ہوئے تو بھی معاشی بحران انہیں سیاسی اکھاڑے میں اترنے کے قابل نہیں چھوڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز الہٰی نے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کیلیے ہوم ورک مکمل کرلیا


مسلم لیگ (ن) کی ایم کیو ایم کو نئے انتظامی یونٹس پر حمایت کی یقین دہانی

عمران خان یہ بیانیہ ترتیب دینے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کی حکومت گرانے کی سازش امریکا نے نوازشریف کی مدد سے تیار کی اور نوازشریف نے دیگر اپوزیشن جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے کو ملاکر اس سازش میں رنگ بھرا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب سے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی واضح کردی ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں پاکستان میں سب سے زیادہ بکنے والے اینٹی امریکا بیانیے کے ساتھ سیاسی اکھاڑے میں اتریں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان  اپنی حالیہ جارحانہ امریکا و مغرب مخالف  سیاسی مہم کی بدولت اپنے تتربتر ہونے والے نظریاتی کارکنوں کو پھر سے یکجا اور فعال کرنے میں کامیاب ہوگئے  ہیں  جس کا ثبوت گزشتہ روز خیبرپختونخوا میں  ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں سامنے آیا ہے۔ جس میں تحریک انصاف  واضح برتری کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔عمران خان ن لیگ اور جماعت اسلامی کے سیاسی قلع میں دراڑ ڈالنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان  نے گزشتہ روز کی تقریرسے اپوزیشن کو دہری مشکل میں مبتلا کردیا ہے۔ کیونکہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی قومی حکومت فوری طور پر انتخابی اصلاحات کرکے عام انتخابات کرائے   تاکہ نئی حکومت تازہ مینڈیٹ کے ساتھ ملکی معاملات سنبھال سکے۔  کیونکہ انتخابات میں التوا کی صورت میں  موجودہ معاشی بحران  مزید بگڑنے کا امکان ہے جس کا سب سےزیادہ نقصان نئی حکومت کو اٹھانا پڑے گا۔

روپے کی بے قدری اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث نئی حکومت کومشکل معاشی فیصلے کرنا پڑیں گے جن کے نتیجے میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جو آئندہ انتخابات میں  موجودہ اپوزیشن جماعتوں کو  سب سے زیادہ نقصان پہنچائے گا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ  عمران خان نے حالیہ دنوں میں اپوزیشن کے خلاف جو بیانیہ ترتیب دیا ہے  اس کے نتیجے  میں اپوزیشن جماعتیں فوری طور پر انتخابی میدان میں جانا نہیں چاہیں گی کیونکہ عمران خان کا امریکا مخالف بیانیہ انہیں بڑا سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں بننے والی قومی حکومت صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی کہ وہ کسی طرح معاشی بحران کو حل کرلے جس کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

متعلقہ تحاریر