چیف جسٹس آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ کے نوٹس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو جو بھی فیصلہ ہو گا وہ حتمی ہوگا۔

 ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر رولنگ کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان عمر عطا بندیال نے قومی اسمبلی کی آج کی کارروائی کے بعد پیداشدہ صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے نوٹس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو جو بھی فیصلہ ہو گا وہ حتمی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا سب سے بڑی غیرملکی سازش تھی، چوہدری سرور

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر احتجاجاً ڈپٹی اٹارنی جنرل اپنے عہدے سے مستعفی

ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نوٹس کے حوالے سے مزید تفصیلات سے بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سپریم کورٹ پہنچ گئے اور انہوں نے پیپلز پارٹی کی درخواست کی سماعت شروع کردی جس میں پیپلزپارٹی نے حکومت کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے اقدامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل خالد جاوید بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ان اقدامات کے خلاف پیپلزپارٹی کے رہنما نیئر بخاری کی جانب سے سپریم کورٹ میں چھٹی والے دن درخواست دائر کی گئی، عدالتی عملہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

اس سے پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے اپنےگھر پر بلایا کیونکہ اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کورٹ کو تالے لگے ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے پٹیشن میں درخواست کی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ ختم کی جائے اور اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

ڈپٹی اسپیکر کا اقدام اور ماہرین قانون کی رائے:

پلڈاٹ کے سربراہ اور ماہرین قانون احمد بلال محمود کا کہنا ہے ڈپٹی اسپیکر نے جو کچھ کیا وہ آئین سےمتصادم ہے، میری نظر میں یہ دونوں اقدام بچگانہ اور غیر آئینی ہیں ، ڈپٹی اسپیکر کے پاس تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

ماہرین قانون خواجہ حارث کا کہنا ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست کسی بھی وقت دائر کی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرانے میں کوئی قدغن نہیں ہے۔ تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ ووٹ ہی سے ہو گا۔ ان  کا کہنا تھا تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد ووٹنگ کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔ ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن سے بھی نہیں پوچھا آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کا کہنا ہے قومی اسمبلی کی آج کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ جلد از جلد مداخلت لیں اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔ چیف جسٹس سے ابھی اپیل کرتا ہوں کہ موجودہ صورتحال میں ابھی کورٹ کا سیشن بلائیں۔

 

متعلقہ تحاریر