سیاسی حالات سے متعلق حامد میر کی پیش گوئیاں جھوٹ ثابت

سینئر صحافی نے موجودہ دھمکی آمیز خط اور سیاسی صورتحال سے متعلق کئی حقائق پیش کیے جو اپنی موت آپ مر گئے ہیں۔

سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر موجودہ سیاسی صورتحال بشمول دھمکی آمیز خط ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملے کی تیاریوں اور دیگر کئی پیش گوئیوں سے متعلق حقائق پیش کرنے میں بری طرح سے ناکام رہے ہیں۔

کئی سینئر صحافی جو کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے سخت ترین ناقدین میں شامل ہیں ، نے ابھی تک امریکی کی جانب سے موصول ہونے والے دھمکی آمیز مراسلے کی مذمت نہیں کی ہے تاہم حکومت کے خلاف افواہوں کی مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نگراں وزیراعظم کی تقرری، صدر نے عمران خان اور شہباز شریف کو خط لکھ دیا

بلی تھیلے سے باہر ، امریکی سفیر کا بھارتی اخبار کو سیدھا جواب دینے سے انکار

سینئر صحافی حامد میر نے گذشتہ دنوں جیو نیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ اور اراکین قومی اسمبلی پر حملے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ تاہم تحریک عدم اعتماد والے دن کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ، نہ تو پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اور نہ ہی کسی رکن قومی اسمبلی پر حملہ کیا گیا۔

حامد میر نے بعدازاں الزام لگایا کہ جس سفارتی کیبل کو بنیاد پر اسمبلی کو تحلیل کیا گیا ہے وہ خط جعلی تھا وہ خط اصلی نہیں تھا۔ بلکہ ڈپلومیٹ کے بھیجے گئے خط کو وزارت خارجہ میں دوبارہ تحریک کیا گیا ۔ کچھ مزید الفاظ شامل کیے گئے ، اس میں جال سازی کا عنصر بھی شامل ہے ۔ یہ وہ متن ہے ہی نہیں جو ڈپلومیٹ نے بھیجا تھا۔

جبکہ دوسری جانب گذشتہ دنوں نیشنل سیکورٹی کمیٹی (این ایس سی) نے سفارتی کیبل کی سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے امریکی حکام سے شدید احتجاج کیا تھا۔ اور ایک احتجاجی مراسلہ بھی امریکا کو دیا گیا تھا۔

دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا تھا جس امریکی سفارت کار نے دھمکی آمیز مراسلہ تیار کروایا تھا اس کا نام ڈونلڈ لو تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز انڈیا کے دورے پر آئے ہوئے ایک انٹرویو میں ، صحافی کے سوال پر اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو نے عمران خان حکومت کو دھمکانے کے پاکستانی الزامات کی تردید نہیں کی تھی۔

بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ "عمران خان کو لگتا ہے کہ آپ نے امریکا میں پاکستانی سفیر سے بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد میں بچ گئے تو پاکستانی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور امریکا پاکستان کو معاف نہیں کرے گا۔ آپ کیا کہتے ہیں۔؟

بھارت میں موجود امریکی عہدے دار ڈونلڈ لو نے پاکستانی الزامات کی تردید نہیں کی۔ بلکہ سوال کے جواب میں کہنے لگے "ہم پاکستان میں پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ہم پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کا احترام اور حمایت کرتے ہیں۔”

بھارتی صحافی نے دوبارہ سوال کیا ۔ کیا آپ نے گفتگو کی تھی۔؟

اس پر اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو نے کہا میرے پاس اس سوال کا بس یہی جواب ہے۔

متعلقہ تحاریر