پرانا پاکستان بحال: دو نجی رہائش گاہوں کو وزیراعظم ہاؤس قرار دے دیا گیا

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی دو نجی رہائش گاہوں کو وزیر اعظم ہاؤس قرار دیا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے صدر شہباز شریف کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد پرانا پاکستان بحال ہوگیا جب کہ پرائم منسٹر ہاؤس اسلام آباد سمیت ان کی دو نجی رہائش گاہوں کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی دو نجی رہائش گاہوں کو وزیر اعظم ہاؤس قرار دیا۔ جن میں ان کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ اور ڈیفنس وائی بلاک کی رہائش گاہ ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صدر مملکت عارف علوی مختصر رخصت پر چلےگئے

لاہور ہائی کورٹ کا ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کا دفتر کھولنے کا حکم

گزشتہ روز، شہباز شریف نے پیر کی شب ایوان صدر میں ایک تقریب میں پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے ان سے حلف لیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ "میں پاکستان کے عوام کو اقتدار کی پرامن منتقلی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ آج ہمارے تمام ادارے آئین کو رہنما اصول کے طور پر مانتے ہیں۔”

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید لکھا ہے کہ "اگر اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی کی مضبوطی میں کوئی اشارہ ہے تو ہمارے اہداف کی طرف ہمارا سفر شروع ہو چکا ہے۔”

"ہم دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی احترام، مساوات اور امن کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔”

"ہماری توجہ تمام پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ بلند مہنگائی سے نمٹا جا سکے اور جمود کا شکار معیشت کو شروع کیا جا سکے۔ ہم مل کر پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں گے، انشاء اللہ۔ پاکستان زندہ باد!!”

لیٹر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پہلی تقریر میں لیٹر گیٹ اسکینڈل کی پارلیمانی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ کسی سازش میں ملوث پائے گئے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ دھمکی آمیز خط کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سامنے ان کیمرہ بریفنگ میں رکھا جائے گا اور عمران خان کو ہٹانے کی غیر ملکی سازش کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی۔

ڈاکٹر توقیر شاہ پرنسپل سیکریٹری تعینات

وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا پہلا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر توقیر شاہ کو اپنا پرنسپل سیکریٹری تعینات کردیا ہے۔

وفاقی اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے ڈاکٹر توقیر شاہ کی بطور پرنسپل سیکریٹری کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

ڈاکٹر توقیر شاہ اس وقت بھی میاں شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری تھے جب صدر مسلم لیگ (ن) وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ ڈاکٹر توقیر شاہ شہباز شریف کے قریبی ساتھیوں میں سے گنے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر توقیر شاہ نیشنل اکاؤنٹیبیلٹی بیورو (نیب) میں رنگ روڈ فراڈ کیس میں نامزد ملزم ہیں۔ پرانا پاکستان بحال ہو گیا مبارک ہو سبوں کو۔

متعلقہ تحاریر