وزیراعظم شہباز شریف نے الٹی گنگا بہا دی، سرکاری اداروں میں ہفتے میں چھ دن کام ہوگا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ہفتے میں پانچ دن کام نہیں کرتے تھے وہ ہفتے میں چھ دن کام کرکے کون سا تیر چلا لیں گے۔

دنیا کے کئی بڑے اور ترقی یافتہ ممالک میں ڈیوٹی ڈیز ہفتے میں کہیں 5 دن اور کہیں ساڑھے 4 دن کردیئے گئے جبکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے الٹی گنگا بہاتے ہوئے ہفتے میں دو سرکاری تعطیلات ختم کرتے ہوئے ایک کردی ہے اور اب ہفتے میں سرکاری ملازمین کو ہفتے میں 6 دن کام کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق ہفتے میں دو سرکاری چھٹیوں کی بجائے اب ہفتے میں ایک سرکاری چھٹی ہوگی۔ اب ہفتے کے دن کی چھٹی نہیں ہوگی صرف اتوار کی چھٹی ہوا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے
جنوبی وزیرستان، آپریشن کے دوران پاک فوج کے دو اہلکار شہید
فارمیشن کمانڈرز نے فوج کے خلاف پراپیگنڈا مہم کا نوٹس لے لیا
میاں محمد شہباز شریف نے دفتر اوقات کار بھی صبح 10 بجے کی بجائے صبح 8 بجے کردیے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔
دوسری جانب انڈیا ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے لے کر نیوزی لینڈ تک ، یہ وہ ممالک ہیں جہاں ہفتے کی شفٹ چار دنوں تک محدود کرد گئی ہے۔
اخبار اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ حالیہ برسوں میں، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی ہفتے میں چار دن کام کے شیڈول کو اپنایا ہے ، جس سے انکی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہفتے کے چار دن کام کرنے کو حمایت حاصل ہورہی ہے۔ دفتری اوقات میں بنیادی تبدیلیوں سے دنیا بھر میں چلنے والے کاروباری اداروں کی صلاحیت کو مزید قابل عمل بنا دیا ہے۔
بیلجیئم کی حکومت نے بھی اپنے سرکاری ملازمین کو اب ہفتے میں چار دن کام کرنے موقع فراہم کیا ہے۔
بہت سے دوسرے ممالک نے بھی ہفتے میں چار دن کام شیڈول کو اپنایا ہے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور نیوزی لینڈ کے بعد جن ممالک نے ہفتے میں چار دن کام کے شیڈول کو اپنایا ہے ان میں اسپین ، آئس لینڈ ، اسکاٹ لینڈ ، آئرلینڈ ، جاپان اور بیلجیئم شامل ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری ادارے کام کے لیے ہفتے کے نئے شیڈول کو اپنائیں گے، یعنی ورکنگ ہاورز ہفتے کے ساڑھے چار دنوں پر مشتمل ہوں گے۔ جمعہ کی سہ پہر، ہفتہ اور اتوار نئے ویک اینڈ کی تشکیل کی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ اقدام یکم جنوری 2022 سے نافذ العمل ہے ۔ اس اقدام سے کام کا ہفتہ مغربی نظام الاوقات کے مطابق ہو گا۔
متحدہ عرب امارات میں اس وقت جمعہ تا ہفتہ ویک اینڈ ہوتا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے نظام الاوقات سے مطابقت رکھتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ دن آرام کرنے سے انسانی جسم کے اندر کام کرنے کی انرجی زیادہ ہو جاتی ہے جس سے معاشی اور کاروباری شعبوں میں اپنی عالمی مسابقت کو بڑھانے اور کام کی رفتار برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا یہ فیصلہ بالکل اس کے برعکس ہے جو ممالک ترقی کررہے ہیں وہ ہفتے میں چار دن ڈیوٹی پر جارہے ہیں اس سے ہوتا یہ ہے کہ وہ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ اور دماغی طور پر بھی تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ اب ہم نے ریورس گیئر میں گاڑی چلا دی ہے اللہ خیر ہی کرے۔









