ڈی جی آئی ایس پی آر نے سلیم صافی کے دعوے کی تردید کردی

پاکستان کے معروف چینل جیو نیوز کے اینکر پرسن سلیم صافی نے گذشتہ سال اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملٹری بیس کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان بات ہوئی تھی۔

پاکستان کے سینئر صحافی سلیم صافی نے گذشتہ سال اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک سے ملٹری بیس کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے سینئر صحافی کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان سے فوجی اڈوں کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

اپنے یوٹیوب چینل پر ثناء مرزا کو انٹرویو دیتے ہوئے سینکر پرسن سلیم صافی نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ امریکی حکومت نے پاکستان اور تاجکستان سمیت کئی دوسرے ممالک سے فوجی آپریشن کے اڈے مانگے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ملکی استحکام و ترقی اولین ترجیح ہے، اسپیکر قومی اسمبلی

شیری مزاری  نے آئی ایس پی آر کے بیان کی تردید کردی

نیوز یارک ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ امریکی حکام چاہتے تھے اگر اگر طالبان کابل شہر پر قبضہ کرتے ہیں یا دوسرے بڑے شہروں پر قبضہ کرتے ہیں تو اس صورت میں امریکہ اپنی ایئر پاور کے ذریعے افغان حکومت کی مدد کرے۔

سینئر صحافی سلیم صافی کا مزید کہنا تھا کہ ایسا صرف دو صورتوں میں ممکن تھا ایک تو یہ وہ ڈرون کے ذریعے حملہ کریں یا پھر لڑاکا طیاروں کے ذریعے۔ یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ پڑوسی ممالک میں ان کے اڈے ہوں ، یا پھر گلف میں جو ان کا بحری بیڑا ہے وہاں سے ان کے طیارے اڑائے جائیں اور وہ حملہ کریں۔

ہلمند حملے کا حوالہ دیتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ انہیں دنوں افغان صوبے ہلمند میں اٹیک کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا میری اطلاعات یہ ہیں کہ وہ گلف سے ایف 18 طیارہ تھا یا طیارے تھے جنہوں نے حملہ کیا تھا وہ پاکستان کی فضائی حدود سے گزرے تھے۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات پر زور دے کر کہا تھا کہ امریکا نے پاکستان سے فوجی اڈوں کا مطالبہ نہیں کیا تھا، اگر پاک فوج سے اڈوں کا مطالبہ کیا جاتا تو ہمارا جواب بھی ایبسولوٹلی ناٹ ہوتا۔

واضح رہے کہ جون 2021 میں امریکی میڈیا کو ایک انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیاگیا تھا کہ کیا پاکستان انسداد دہشت گردی کی کارروائیون کیلیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا؟ جس کے جواب میں عمران خان نے ایبسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ عمران خان کا یہ بیان ان کے سخت موقف کی وجہ سے عالمی میڈیا کی سرخیوں کی زینت بن گیا تھا۔

جنوری 2012 میں عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ امریکا: ہم آپ کے دوست رہیں گے، آپ کے غلام نہیں۔ ہم افغانستان سے انخلا میں آپ کی مدد کریں گے لیکن آپ کے لیے فوجی آپریشن نہیں کریں گے۔

متعلقہ تحاریر