مسلم لیگ (ن) کی حکومت گورننس ٹھیک کرنے میں ناکام

لیگی رہنما پی ٹی آئی حکومت کی جن پالیسیز اور اقدامات پر تنقید کرتے تھے آج انہیں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، آئی ایم ایف قرضہ ناگزیر قرار دے دیا۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گورننس اور پالیسی میں تبدیلی کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے اور پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت ہی کے طریقہ کار پر گامزن ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کی ہر پالیسی اور اقدام پر تنقید کرنے کے بعد، اب مسلم لیگ (ن) کو بھی پچھلی حکومت کے راستے پر چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا۔

سب سے زیادہ جس آئی ایم ایف پروگرام پر تنقید کی جاتی تھی اب وہی پروگرام مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی جاری رکھنا چاہتی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر جن پر لیگی رہنما امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے تھے اب وہی رضا باقر موجودہ حکومت کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایک فیصلے میں لیگی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ اقدام بھی پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت نے کیا تھا۔

دوسری طرف، سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بجلی کے یونٹ میں دیا گیا ریلیف موجودہ حکومت نے واپس لے لیا ہے۔

اب بجلی کے یونٹ میں 4.85 روپے فی یونٹ تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

شہباز شریف کے وزیراعظم بنتے ہی حکومت نے مالی بوجھ سے بچنے کے لیے غریبوں کیلیے کھولی گئی پناہ گاہیں بند کر دی ہیں۔

گو کہ لیگی حکومت نے وضاحت کی ہے کہ سرکاری ملکیت میں شامل فلاحی ادارے بند نہیں کیے جائیں گے۔

پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا پروگرام بدستور فعال ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔

لیگی حکومت نے احساس کیس پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی سوائے اس کا نام تبدیل کرنے کے، احساس پروگرام کا نام بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام رکھ دیا ہے۔

لیگی حکومت نے صحت کے انشورنس پروگرام کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ پروگرام بھی پی ٹی آئی حکومت کا شروع کردہ ہے۔

متعلقہ تحاریر